اشتیاق احمد قاسمی
ظاہری ہیئت
اشتیاق احمد قاسمی (پیدائش: 1978ء) ایک ہندوستانی دیوبندی عالم دین، مفتی، تبصرہ نگار، سوانح نگار اور مصنف ہیں۔ وہ سنہ 2008ء سے دار العلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اقتباسات
[ترمیم]- دیوبند کی سرزمین بڑی زرخیز ہے، یہاں ہر زمانے میں ایک سے ایک صاحب فضل وکمال رہے ہیں، اربابِ علم وہنر، صاحب فکر وفن اور زبان وادب کے شناوروں نے دیوبند کا نام روشن کیا ہے، یہاں کے انشا پردازوں نے بامقصد فن پاروں کے ذریعہ جہاں بڑے بڑے انقلابات برپا کیے ہیں، وہیں زبان وادب کی آبیاری بھی کی ہے۔ آج بھی یہاں کے نغموں کی مہک اور غزلوں کی صداقت ملک بھر میں؛ بلکہ اردو ادب کی دنیا میں اپنی شناخت اور ممتاز پہچان رکھتی ہے۔
- حضرت مفتی کفیل الرحمن نشاط عثمانی کی غزلیہ شاعری: معاصر ادباء کی نظر میں از اشتیاق احمد قاسمی، ماہنامہ دارالعلوم دیوبند (ج: 94، ش: 6۔ جون 2010ء)
- آج کا دَور ترقی یافتہ کہلاتاہے، ہر گوشۂ زندگی میں نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں، جدید اِکتشافات کے سامنے عقل و خرد محو حیرت ہے، آج دُنیا کی دُوری ختم ہوچکی ہے، ذرائع ابلاغ اور وسائل نقل و حمل نے ترقی کرکے سالوں اور مہینوں کے کام دِنوں گھنٹوں اور منٹوں میں ممکن کردئیے ہیں، پہلے کے بالمقابل آج مال و دولت کی بھی کمی نہیں رہی، حقیقت میں آج زمین سونا اُگل رہی ہے، سمندروں نے اپنی تہوں سے ہیرے، موتی اور جواہر پارے ”سواحلِ انسانی“ پر لاکر رکھ دیے ہیں۔ سارے اسباب و وسائل کے باوجود آج لوگوں کو سکون و طمانینت حاصل نہیں، ایک دائمی بے اطمینانی ہے، جو سب پر مسلط ہے، ہر طرف ظلم و ستم کی گرم بازاری ہے، آئے دن فسادات اور قتل و غارت گری ہورہی ہے، نِت نئے فتنے جنم لے رہے ہیں، فتنوں کا نہ تھمنے والا سیلاب امڈتا چلا آرہا ہے، جس طرف دیکھیے اختلاف ہی اختلاف ہے: بین الاقوامی اختلاف، فرقہ واری اختلاف، سیاسی پارٹیوں کا اختلاف، خاندان کا اختلاف، گھر اور افراد کا اختلاف اور نہ جانے کون کون سے اختلافات ہر سُو رونما ہو رہے ہیں۔ ہر آدمی ایک دوسرے سے مختلف و منحرف نظر آرہا ہے۔ خود غرضی عام ہورہی ہے، اخلاق و پاک دامنی کا فقدان ہے، شرافت و امانت ناپید ہو رہی ہے، امن و آشتی اور سکون و عافیت مفقود ہوتی چلی جارہی ہے۔ کون سی ایسی برائی ہے جس کا تصور کیا جائے اور وہ معاشرے میں موجود نہیں، زِنا اور شراب نوشی عام ہے۔ سود اور سودی کاروبار ہر گھر میں پہنچ چکا ہے، جوا اور سٹّہ بازی کی نئی نئی شکلیں اختیار کی جارہی ہیں، دُختر کُشی بلکہ نسل کُشی ایک فیشن بن گئی ہے۔ آج کے اِس دَور کو کون سا دَور کہیں گے؟ فتنوں کا دَور! گناہوں کا دَور! بے حیائی اور بے لگامی کا دَور! خودسَری اور خود غرضی کا دَور! شیطانی دَور! یاجوجی یا ماجوجی دَور! سمجھ میں نہیں آتا کہ عصرِ حاضر کو کیا نام دیا جائے؟ دَورِ حاضر دَورِ جاہلیت کی طرف تیزی سے رَواں دَواں ہے؛ بلکہ بعض لحاظ سے اِس سے بھی آگے جاچکا ہے۔
- عصرِ حاضر میں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی از اشتیاق احمد قاسمی، ماہنامہ دارالعلوم دیوبند (ج: 90، ش: 2۔ فروری 2006ء)
