الف شفق

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

الف شفق ایک ترک مصنفہ ہیں، جن کے ناولوں کا ترجمہ بہت سی زبانوں میں ہو چکا ہے۔

اقتباسات[ترمیم]

گم شدہ درختوں کا جزیرہ[ترمیم]

کوستاس نے بیلچہ زمین میں دھنساتے ہوئے کہا، "جب تم دفن ہو جاؤ گے تو میں روزانہ تمہارے پاس باتیں کرنے آیا کروں گا۔" اس نے بیلچے کے دستے پر جھکتے ہوئے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھایا اور اسے قریبی مٹی کے ڈھیر کی طرف اچھال دیا۔ 'تم اکیلا پن محسوس نہیں کرو گے۔' کاش میں اسے بتا سکتا کہ تنہائی ایک خالص انسانی اختراع ہے۔درخت کبھی تنہا نہیں ہوتے۔ انسانوں کے خیال میں وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کا اختتام اور دوسروں کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟ اپنی الجھی ہوئی جڑوں اور زیرِ زمین فنجائی اور بیکٹیریا سے جڑے ہوئے درخت اس قسم کا کوئی بھی وہم نہیں پالتے۔ ہم درختوں کے لیے ، ہر شے آپس میں مربوط ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں الف شفق.

حوالہ جات[ترمیم]