اورنگزیب عالمگیر
ظاہری ہیئت

محی الدین محمد اورنگزیب عالمگیر (4 نومبر 1618ء – 3 مارچ 1707ء)، مغلیہ سلطنت کے چھٹے بادشاہ تھے۔ ان کی حکومت 1658ء سے 1707ء تک برصغیر کے بیشتر حصوں پر قائم رہی۔
اقوال
[ترمیم]- خوشامدیو! مجھے جواب دو، کیا تم پر لازم نہ تھا کہ مجھے کم از کم ایک ایسی بات ضرور سکھاتے جو بادشاہ کے لیے نہایت ضروری ہوتی ہے، یعنی حاکم اور رعایا کے باہمی فرائض؟ کیا تمہیں یہ اندازہ نہ تھا کہ ایک دن مجھے اپنے ہی بھائیوں سے تلوار ہاتھ میں لے کر تاج اور اپنی جان کے لیے لڑنا پڑے گا؟ یہی تو ہندستان کے اکثر بادشاہوں کے بیٹوں کا مقدر رہا ہے۔ کیا تم نے کبھی مجھے جنگ کا فن، کسی شہر کے محاصرے یا لشکر کی ترتیب سکھائی؟ شکر ہے کہ میں نے ان معاملات میں تم سے زیادہ عقل مند لوگوں سے مشورہ لیا۔ اب جاؤ، کسی گاؤں میں گوشہ نشین ہو جاؤ، اور آئندہ کوئی یہ نہ جانے کہ تم کون تھے یا تمہارا کیا انجام ہوا۔
- اورنگزیب کا اپنے استاد سے خطاب، روایت کردہ از فرانسوا برنیئر
- میں چاہتا ہوں کہ تم یہ بات یاد رکھو کہ سب سے بڑے فاتح ہمیشہ سب سے اچھے بادشاہ نہیں ہوتے۔ دنیا کی قومیں اکثر غیر مہذب حملہ آوروں کے ہاتھوں مغلوب ہوئیں، مگر ان کی فتوحات چند ہی برسوں میں بکھر گئیں۔ حقیقی عظمت اس بادشاہ کی ہے جو اپنی زندگی کا اصل مقصد انصاف کے ساتھ رعایا کی حکمرانی کو بنائے۔
- اپنے والد شاہ جہاں کے نام خط
- ایک بادشاہ کو نرمی اور سختی کے درمیان اعتدال قائم رکھنا چاہیے۔
- اورنگزیب عالمگیر
- ہندستان میں یہ سلطنت ایک روٹی کے ٹکڑے کی مانند ہے، جو ہمیں تیمور اور اکبر کی جانب سے عطا ہوئی۔
- اپنے پوتے بیدار بخت کے نام خط
- میں اس دنیا میں اجنبی آیا اور اجنبی ہی رخصت ہو رہا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میں کون ہوں اور کس انجام کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ اقتدار کے لمحے گزر گئے اور پیچھے صرف پشیمانی رہ گئی۔ میں سلطنت کا حقیقی محافظ نہ بن سکا۔ میرا قیمتی وقت رائیگاں گیا۔ ضمیر میرے دل میں تھا، مگر میری نگاہ اس کے نور کو نہ دیکھ سکی۔
- اپنے بیٹے کے نام آخری خطوط میں سے
- میں کچھ بھی ساتھ نہیں لایا تھا، اور انسان کی کمزوریوں کے سوا کچھ لے کر نہیں جا رہا۔ مجھے اپنی نجات کا خوف ہے اور ان سزاؤں کا اندیشہ ہے جن کا مجھے سامنا ہو سکتا ہے۔ اگرچہ مجھے خدا کی رحمت پر بھروسا ہے، مگر اپنے اعمال کو دیکھ کر خوف میرا پیچھا نہیں چھوڑتا۔
- اورنگزیب عالمگیر
- دوستو! حوصلہ رکھو — خدا ہے، خدا ہے!
- دارا شکوہ کے خلاف جنگ کے دوران
- اہل لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہوتی؛ دانا حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ انہیں پہچانیں، اپنی طرف مائل کریں، اور خودغرض لوگوں کی بہتان طرازیوں پر کان نہ دھرتے ہوئے ان سے کام لیں۔
- رقعاتِ عالمگیری
- میں خوش ہوں کہ کم از کم دنیا یہ کہے گی کہ میں نے محمدی دین کے دشمنوں کو مٹانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
- وفات سے قبل منسوب قول
- میری روح کی روح! اب میں اکیلا جا رہا ہوں۔ میں نے جو ظلم کیے، جو گناہ کیے، ان سب کا بوجھ میرے ساتھ ہے۔ عجیب بات ہے کہ میں خالی ہاتھ آیا اور گناہوں کے قافلے کے ساتھ جا رہا ہوں۔
- اپنے بیٹے کام بخش کے نام خط
اورنگزیب کے بارے میں اقوال
[ترمیم]- اورنگزیب کی زندگی ایک طویل المیہ تھی — پچاس برس کی سخت محنت، نظم و ضبط اور اخلاقی سنجیدگی کے باوجود اس کی سلطنت بکھر گئی۔ وہ ذہین، محنتی اور فرض شناس حکمران تھا، مگر اس کی مذہبی سخت گیری نے اس کے اقتدار کی بنیادیں کمزور کر دیں۔
- جدو ناتھ سرکار، تاریخِ اورنگزیب
- اورنگزیب اپنی ذاتی زندگی میں نہایت سادہ، محنتی اور عبادت گزار تھا، مگر اس کی پالیسیوں میں وہ رواداری نہ رہی جو اکبر کے عہد کی پہچان تھی۔
- ستیش چندر، قرونِ وسطیٰ کا ہندوستان
- اورنگزیب کو اکثر مذہبی شدت پسند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ تاریخی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ اس کی حکمرانی یک رخی نہیں تھی اور اس کے فیصلے سیاسی، معاشی اور مذہبی عوامل کے امتزاج سے متاثر تھے۔
- آڈری ٹرشکے، اورنگزیب: ہندوستان کے سب سے متنازع بادشاہ کی زندگی اور وراثت
- اورنگزیب کے دور میں مذہبی پالیسی سخت ہوئی، جس کے نتیجے میں ہندو رعایا میں بے چینی پھیلی اور بغاوتوں میں اضافہ ہوا، جس نے مغلیہ سلطنت کو طویل المدت نقصان پہنچایا۔
- کے۔ ایس۔ لال، ہندوستان میں مسلم ریاست کا نظریہ اور عمل
- اورنگزیب نے اپنی ذاتی خواہشات کو ترک کر کے خود کو ایک مذہبی حکمران کے طور پر پیش کیا، مگر اسی مذہبی تصورِ حکومت نے اسے عوامی حمایت سے محروم کر دیا۔
- ول ڈیورانٹ، مشرقی ورثہ
- جدید مؤرخین کے مطابق اورنگزیب کی شخصیت کو نہ مکمل طور پر فرشتہ کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی مطلق شیطان؛ وہ اپنے عہد کی پیداوار تھا، جس کی خوبیاں اور خامیاں دونوں تاریخ میں درج ہیں۔
- رنبیر ووہرا، ہندوستان کی تشکیل
