مندرجات کا رخ کریں

بقراط

ویکی اقتباس سے
درندوں کی طرح کھانا مرض کا سبب ہے اور پرندوں کی طرح کھانا صحت کا سبب ہے۔

بقراط (460 ق‌م – 377 ق‌م) قدیم یونان کے منجھے ہوئے طبیب تھے یہاں تک کہ انھیں ابو طب (فادر آف میڈیسن) کہا جاتا ہے۔

اقوال

[ترمیم]
  • طب فن شریف ہے۔ اس کو اختیار کرنے والے کی طبیعت اگر نکمی ہو تو بد نامی کا باعث ہے۔ پس طب کا طالب علم شریف، ذہین، مستقل مزاج، نو عمر، تندرست، خوش اخلاق، پرہیزگار، محنتی، شجاع، بُردبار اور راز دار وغیرہ ہو۔ (مخزن الجواہر صـ 179)
  • اپنے دوستوں سے اس قدر اخلاص روا رکھو کہ تھوڑی سی تبدیلی دوستی ختم نہ کرڈالے۔
  • اگر تم خواتین کے مشوروں کے محتاج نہ بنوگے تو پوری زندگی مصائب سے بچے رہوگے۔
  • جو شخص حسد کو قائم رکھے اس کا نفس قائم نہیں رہ سکتا اور اس کی حاسدانہ روش اس کو قبل از وقت موت کے منہ پہنچا دیتی ہے۔
  • عقلمند وہ ہے جو میانہ روی کو اپنی زندگی کا شعار بنائے رکھے۔
  • سنجیدگی کو برقرار رکھو، کم بات کرو اور اپنی بات کو بُرے لوگوں سے بچائے رکھو۔
  • اگر کوئی تمھارے بد افعال کی نشان دہی کرے تو اس کو بُرا مت کہو بلکہ اس بُرے عمل کو ترک کردو۔
  • تمھیں چاہیے کہ لوگوں کے عیوب کے متلاشی نہ رہو، کیونکہ تمھارے عیب بھی کوئی تلاش کر سکتا ہے۔
  • جو لوگ حکام بالا کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان کو ذلت و اہانت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے۔
  • اس دنیا کو مہمان خانہ سمجھو اور موت کو میزبان۔
  • اگر تمھیں بہت دولت مل جائے تو رب کا شکر کرو اور چھین لی جائے تو ناشکری مت کرو۔
  • مخلوق کے فیصلوں میں انصاف برقرار رکھو۔
  • جو تمھیں گالیاں دے تم اس کو گالیاں مت دو، بلکہ حسن اخلاق سے اس کی اصلاح کرو۔
  • جو شخص اپنے عیوب سے آگاہی حاصل نہیں کرتا اس پر کسی کی نصیحت کا اثر ہو سکتا۔
  • تحمل مزاجی قائدین اور نیک لوگوں کی اولین نشانی ہے۔
  • عبرت حاصل کرنے کے شوقین کے لیے ہر نئی چیز میں عبرت پنہاں ہے۔
  • تمھیں ہر اس بات کا علم ہونا چاہیے جس کے بغیر تم کبھی شرمندگی سے دوچار ہو سکتے ہو۔

بیرونی روابط

[ترمیم]
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں بقراط.