مندرجات کا رخ کریں

جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ

ویکی اقتباس سے

جامعہ عثمانیہ حیدرآباد، دکن میں واقع برصغیر کی ایک تاریخی اور معروف یونیورسٹی ہے جس کی بنیاد 1918ء میں میر عثمان علی خان نے رکھی۔ اس یونیورسٹی کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ اس کا شعبہ دار الترجمہ تھا، جس نے دنیا بھر کے سائنسی، قانونی اور طبی علوم کو پہلی بار اردو نثر میں منتقل کر کے اعلیٰ تعلیم کا ذریعہ بنایا۔

جامعہ عثمانیہ کی تاریخی آرٹس کالج بلڈنگ

اقتباسات

[ترمیم]
  • جامعہ عثمانیہ کا قیام اس تاریخی سچائی کا اعتراف ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم اور جدید علوم و سائنس کی تدریس مادری زبان میں نہ صرف ممکن ہے، بلکہ قوم کی ذہنی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
    • فرمانِ شاہی (تاسیسِ جامعہ عثمانیہ)، 1917ء، ص: 2۔
  • دارالترجمہ کا اصل کمال یہ ہے کہ اس نے مغربی علوم کے خشک اور پیچیدہ نظریات کو اردو نثر کے قالب میں اس طرح ڈھالا کہ زبان کی چاشنی بھی برقرار رہی اور علمی صحت پر بھی کوئی حرف نہیں آیا۔
    • مولوی عبدالحق، تاریخِ جامعہ عثمانیہ، ص: 114۔
  • جب تک سائنس، قانون اور علمِ طب کو مقامی زبانوں میں منتقل نہیں کیا جاتا، تب تک علم کا فائدہ صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود رہے گا اور عام عوام تک اس کے ثمرات نہیں پہنچیں گے۔
    • وحید الدین سلیم، وضعِ اصطلاحات (دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ)، ص: 8۔
  • جامعہ عثمانیہ نے یہ ثابت کر دیا کہ اردو نثر میں وہ وسعت اور لچک موجود ہے جس کے ذریعے فلسفے کی باریکیوں سے لے کر انجینئرنگ کے مروجہ اصولوں تک ہر چیز کو آسانی سے سمجھایا جا سکتا ہے۔
    • خطبہ صدارت (تقسیمِ اسنادِ جامعہ عثمانیہ)، 1928ء، ص: 24۔

بیرونی روابط

[ترمیم]
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں جامعہ عثمانیہ و دار الترجمہ.