مندرجات کا رخ کریں

جان ڈیلبرگ-ایکٹن

ویکی اقتباس سے
آزادی کسی اعلیٰ سیاسی مقصد کا ذریعہ نہیں، بلکہ خود سب سے اعلیٰ سیاسی مقصد ہے۔

جان ایمیرک ایڈورڈ ڈالبرگ ایکٹن، پہلے بیرن ایکٹن (10 جنوری 1834 – 19 جون 1902) ایک انگریز کیتھولک مورخ تھے، جو عام طور پر لارڈ ایکٹن کے نام سے مشہور ہیں۔

اقوال

[ترمیم]
دو چیزیں ایسی ہیں جن پر سامنے سے حملہ نہیں کیا جا سکتا: جہالت اور تنگ نظری۔ انہیں صرف مخالف صفات کی نشوونما سے ہی ہلایا جا سکتا ہے۔
جب ریاست کسی ایک مقصد کو حتمی غایت بنا لے تو وہ لازماً مطلق العنان بن جاتی ہے۔ صرف آزادی ہی عوامی اختیار کی حد بندی کا تقاضا کرتی ہے۔
  • ہمیں علم کو کسی بیرونی مقصد کے لیے حاصل نہیں کرنا چاہیے، بلکہ علم کو علم کے لیے حاصل کرنا چاہیے۔
    • ذاتی ڈائری (1858)
  • جدید دنیا کے سیاسی نظریات اور کلیسائی نظام کے درمیان ایک ناقابلِ مصالحت تضاد موجود ہے — خاص طور پر آزادی کے تصور میں۔
    • دی رومن سوال (1860)
  • دو چیزیں ایسی ہیں جن پر سامنے سے حملہ نہیں کیا جا سکتا: جہالت اور تنگ نظری۔
    • خط (1861)
  • ہر وہ چیز جو خفیہ ہو، بگڑ جاتی ہے — حتیٰ کہ انصاف بھی۔
    • خط (1861)
  • انگریز عوام نے اپنی آزادی روایت کی بنیاد پر حاصل کی، نہ کہ انقلاب کے ذریعے۔
  • ریاست کا ہر مطلق مقصد بالآخر جبر میں بدل جاتا ہے۔
  • جب ریاست کسی ایک مقصد کو سب سے اعلیٰ بنا لیتی ہے تو وہ لازماً مطلق العنان ہو جاتی ہے۔
  • آزادی کی حقیقی کسوٹی یہ ہے کہ اقلیتیں کتنی محفوظ ہیں۔
  • آزادی اور اچھا نظامِ حکومت ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔
  • آزادی کسی اعلیٰ سیاسی مقصد کا ذریعہ نہیں — وہ خود سب سے اعلیٰ سیاسی مقصد ہے۔
  • اکثریت کا جبر جبر کی سب سے خطرناک شکل ہے۔
  • طاقت فساد پیدا کرتی ہے، اور مطلق طاقت مکمل فساد پیدا کرتی ہے
  • اس سے بڑی کوئی بدعت نہیں کہ عہدہ رکھنے والا مقدس ہو جاتا ہے۔
  • تاریخ کو سمجھنے کے لیے افراد کے پیچھے موجود نظریات کو سمجھنا ضروری ہے۔
  • تاریخ کا اصل وقار اخلاقی معیار میں پوشیدہ ہے۔
  • ضمیر کو نظام اور کامیابی دونوں پر فوقیت دو۔
  • تاریخ نہ دکھ کے بدلے دیتی ہے اور نہ جرم کی مکمل سزا۔
  • قومیت اکثر انفرادیت کو ختم کر دیتی ہے۔
  • ہر طبقہ حکومت کے لیے نااہل ہوتا ہے۔
  • آزادی نسل پر نسل، مذہب پر مذہب اور طبقہ پر طبقہ کی حکمرانی ختم کرتی ہے۔
  • تاریخ معصوم ہاتھوں سے نہیں لکھی جاتی۔ طاقت ہمیشہ انسان کو بگاڑتی ہے۔
  • لبرل ازم اکثر آزادی کے خلاف ثابت ہوا ہے۔
  • آزادی دوسروں کے کنٹرول سے تحفظ کا نام ہے، جس کے لیے خود ضبطی ضروری ہے۔
  • ریاستی اختیار اگر آزادی کے لیے نہ ہو تو وہ اختیار نہیں بلکہ جبر ہے۔
  • انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دشمن طاقت ہے۔
  • جمہوریت میں سب سے بڑا خطرہ اکثریت کا جبر ہے۔
  • اکثریت کا جبر اقلیت کے جبر سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
  • سچی آزادی اخلاقیات سے جنم لیتی ہے، سیاست سے نہیں۔
  • ضمیر کے خلاف کوئی قانون معتبر نہیں۔
  • خدا کے سامنے نہ کوئی یونانی ہے نہ اجنبی، نہ امیر نہ غریب — سب انسان آزاد پیدا ہوتے ہیں۔
  • تاریخ کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ حکومتیں کیا کہتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے۔
  • آزادی کی بنیاد جائیداد نہیں بلکہ ضمیر ہے۔
  • ایک ایسی حکومت جو اصلاح کے قابل نہ ہو، باقی رہنے کے قابل نہیں۔
  • طاقت ہمیشہ تاریخ کی سب سے بڑی آزمائش رہی ہے۔

مشہور قول

[ترمیم]
  • طاقت فساد پیدا کرتی ہے، اور مطلق طاقت مکمل فساد پیدا کرتی ہے۔

اختتام

[ترمیم]

لارڈ ایکٹن تاریخ کو اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ دیکھتے تھے اور آزادی کو انسانی وقار کی بنیاد سمجھتے تھے۔

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں جان ڈیلبرگ-ایکٹن.