دار المصنفین شبلی اکیڈمی
ظاہری ہیئت
دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ (اتر پردیش) میں واقع برصغیر کا ایک مایہ ناز اور تاریخی علمی و تحقیقی ادارہ ہے۔ اسے علامہ شبلی نعمانی اور ان کے شاگردوں نے 1914ء میں قائم کیا تھا تاکہ اردو زبان میں اعلیٰ پائے کی تصانیف، لغت نویسی اور تاریخی تحقیقات پیش کی جا سکیں۔

اقتباسات
[ترمیم]- افسوس ہے کہ اکیڈمی کی عمارت کی تکمیل میں خود نہ دیکھ سکا۔ میری تمنا یہی ہے کہ یہ دارالمصنفین اسلام کی سچی تمدنی اور علمی تاریخ کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا مستقل ذریعہ بنے۔
- شبلی نعمانی، مکاتیبِ شبلی (خطوط بنام سید سلیمان ندوی)، جلد اول، مطبع معارف، اعظم گڑھ۔
- دارالمصنفین کا کام صرف کتابیں لکھنا نہیں، بلکہ ملک میں ایسے صاحبِ قلم پیدا کرنا ہے جو اپنے علم اور تحقیق سے اردو زبان کا دامن وسیع کر سکیں۔
- سید سلیمان ندوی، حیاتِ شبلی، دارالمصنفین، اعظم گڑھ۔
- شبلی نے اعظم گڑھ میں جس اکیڈمی کی بنیاد رکھی، وہ دراصل برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا علمی مرکز ہے جہاں سیاست کے شور و غل سے دور، خالص علمی و تحقیقی کام کیا جاتا ہے۔
- ابوالکلام آزاد، تذکرہ، مکتبہ احباب، لاہور۔
- اکیڈمی نے اپنی طویل تاریخ میں مشکل سے مشکل دور کا سامنا کیا، لیکن اپنے بانی کے اصولوں یعنی علمی دیانت اور غیر جانبدارانہ تحقیق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
- صباح الدین عبدالرحمن، ہمارے دارالمصنفین، دارالمصنفین، اعظم گڑھ۔
