سید عبد اللہ
ظاہری ہیئت
ڈاکٹر سید عبداللہ (5 اپریل 1906ء – 14 اگست 1986ء) برصغیر کے ممتاز محقق، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے اورینٹل کالج لاہور کے پرنسپل اور مجلسِ ترقیِ ادب کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی تحریروں میں علمی تنقید، تحقیق اور اردو زبان کے فروغ کے موضوعات نمایاں ہیں۔
اقتباسات
[ترمیم]- تنقید کا اصل منصب صرف الفاظ کی ظاہری خوبصورتی پرکھنا نہیں، بلکہ ادب کے باطنی محاسن اور ان تہذیبی اقدار کو آشکار کرنا ہے جن پر ایک زندہ معاشرے کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔
- سید عبداللہ، اشاراتِ تنقید، مکتبہ خیابانِ ادب، لاہور۔
- اعلیٰ علوم کی تدریس کو مادری زبان سے جدا کرنا قومی غیرت اور ذہنی آزادی کے اصولوں کے صریحاً منافی ہے، کیونکہ غیر زبان کبھی تخلیقی فکر کی سچی امین نہیں ہو سکتی۔
- سید عبداللہ، اردو زبان اور نفاذِ اردو، مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور۔
- تحقیق محض پرانی کتابوں کی اندھی تقلید کا نام نہیں، بلکہ یہ تو گزرے ہوئے زمانوں کے فکری آثار کی غیر جانبدارانہ تلاش اور علمی سچائی کی بازیافت کا ایک کٹھن سفر ہے۔
- سید عبداللہ، مباحث، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور۔
- کلاسیکی ادب کی طرف رجوع کرنا ماضی کی اندھی پرستش نہیں ہے، بلکہ اپنے اس قدیم سرمائے سے بصیرت حاصل کرنا ہے جس کے بغیر نئے عہد کی فکری تعمیر ممکن ہی نہیں۔
- سید عبداللہ، طیفِ اقبال، باذوق پریس، لاہور۔
