شاہ ولی اللہ دہلوی
ظاہری ہیئت
شاہ ولی اللہ دہلوی (پیدائش: 21 فروری 1703 موضع پھلت، دہلی، وفات: 20 اگست 1762 دہلی) ایک اسلامی اسکالر، محدث مصلح، مورخ، کتابیات نگار، ماہر الہیات، اور فلسفی تھے۔
اقتباسات
[ترمیم]- ہندوستان میں جس معزز اور بزرگوار نے سب سے پیشتر حدیث کے درس و تدریس کی بنیاد ڈالی اور جس مشہور محدث نے اس غریب علم کے شائع کرنے اور پھیلانے میں کوشش بلیغ کی وہ شیخ عبدالرحیم تھے۔
- ( حیات ولی ص (۱۶)
- آنحضرت صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے کہ میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا لیکن اب میں تمہیں کہتا ہے کہ زیارت کرو کیونکہ اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے نہی کی بناء اس مصلحت پر تھی کہ زیارت قبور کی آزادی دینا عام طور پر غیر اللہ کی عبادت تک پہنچا دیتی ہے لیکن جب اسلامی تعلیمات نے دلوں میں جگہ پکڑ لی اور توحید ان کے رگ و پے میں سرایت کر گئی تو آپ نے اس کی اجازت دے دی۔
- حجة اللہ البالغہ مترجم مولا نا عبد الرحیم کلاچوی ج ۲ ص ۲۵۹ قومی کتب خانہ ریلوے روڈ لاہور
- اس کی فصاحت و بلاغت کا اعلیٰ ترین درجہ جو انسان کی استطاعت سے باہر ہے۔ تاہم چونکہ ہم پہلے عربوں کے بعد آتے ہیں ہم اس کے جوہر تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ لیکن جو پیمانہ ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ دلکش الفاظ اور میٹھے تعمیرات کا کمال اور اثر کے بغیر جو کام ہمیں زبردست قرآن میں ملتا ہے وہ پہلے یا بعد کے لوگوں کی شاعری میں کہیں اور نہیں ملتا۔
- ولی اللہ، ص (2014) میں الفوز الکبیر فی اصول التفسیر۔ قرآنی حرمینیات پر عظیم فتح: قرآنی تفسیر کے اصولوں اور باریکیوں کا ایک دستورالعمل۔ ترجمہ، تعارف اور تشریح طاہر محمود کیانی نے کی۔ لندن: طہٰ، ص160۔
