عبد اللہ معروفی
ظاہری ہیئت
عبد اللہ معروفی (پیدائش: 1967ء) ایک ہندوستانی دیوبندی عالم، مفتی اور مصنف ہیں، جو خصوصاً علم حدیث پر گہری نگاہ رکھتے ہیں اور علم حدیث پر جن کی گراں مایہ خدمات ہیں۔ وہ 2001ء سے دار العلوم دیوبند میں شعبۂ تخصص فی الحدیث کے استاذ کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے ہیں اور فی الحال اس شعبے کے نگراں بھی ہیں۔ نیز وہ محمد طلحہ کاندھلوی (جانشین محمد زکریا کاندھلوی)، محمود الحسن پٹھیروی (خلیفہ حسین احمد مدنی) اور شاہ عبد الستار بوڑیوی (خلیفہ مسیح اللہ خان جلال آبادی) کے خلیفہ و مُجاز ہیں۔
اقوال
[ترمیم]- موت ہر ایک کو آنی ہے اور آتی ہے؛ مگر اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی موت اکیلے کی نہیں؛ بلکہ ایک آباد اور ہری بھری دنیا کو ویران کردیتی ہے۔
- مدتوں رویا کریں گے از عبد اللہ معروفی، ماہنامہ دارالعلوم دیوبند (ج: 101، ش: 8–9)، اگست تا ستمبر 2017ء۔
- علم اصول حدیث سے مناسبت ہر عالم اور علوم شرعیہ سے تعلق رکھنے والے کی بنیادی ضرورت ہے؛ کیوں کہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے استدلال کے لیے فنی طور پر اس کی صحت وضعف کو جاننا، نیز سند و متن کے اعتبار سے اس کا مقام و مرتبہ معلوم کرنا لازم و ضروری ہے۔
- عبد اللہ بن محمد لاجپوری، اِجرائے اصولِ حدیث، تقریظ عبد اللہ معروفی، سنہ اشاعت: 2016ء، ڈابھیل، گجرات: ادارۃ الصدیق، ص: 19۔
- جو لوگ علوم حدیث میں خاطر خواہ درک نہیں رکھتے، ان سے علمی کاموں میں قدم قدم پر غلطیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں، بسا اوقات بالکل بے بنیاد و غیر ثابت نص پر مبنی کوئی لمبی چوڑی تقریر یا مضمون لکھ دیا جاتا ہے جس کی حیثیت تارِ عنکبوت سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اس لیے مدارسِ اسلامیہ کے نصاب میں علمِ اصولِ حدیث مضمون لازمی طور سے شامل کیا گیا ہے تا کہ حضراتِ علماء کرام اور منتہی طلبہ کی نظر حدیث فہمی اور حدیث سے استدلال کے وقت قابل قبول و قابل استدلال مواد پر ہی رہے۔
- حوالۂ سابق، 2016ء، ص: 19
