مندرجات کا رخ کریں

عصمت چغتائی

ویکی اقتباس سے

عصمت چغتائی (21 اگست 1915ء – 24 اکتوبر 1991ء) ایک مشہور ہندوستانی اردو افسانہ نگار، ناول نگار اور فلمی مصنفہ تھیں۔ وہ اردو ادب میں اپنے بیباک اور حقیقت پسندانہ اسلوب کے لیے جانی جاتی ہیں۔

عصمت چغتائی کے دستخط

اقتباسات

[ترمیم]
  • آگرہ کی ان مردہ گلیوں میں پہلی بار مجھے اپنے لڑکی ہونے کا صدمہ ہوا۔ عورت خدا نے کیوں پیدا کی۔ مری پٹی، مجبور و محکوم ہستی کی کیا ضرورت! دھوبن روز رات کو پٹتی تھی۔ مہترانی کے آئے دن جوتے پڑا کرتے تھے، پاس پڑوس کی تمام ہی عورتیں آئے دن اپنے شوہروں کے جوتا کھایا کرتی تھیں اور میں خدا سے گڑگڑاکر دعا مانگتی: اے اللہ پاک مجھے لڑکا بنا دے۔
    • کاغذی ہے پیرہن (خودنوشت)، ص 45۔
  • مجھے روتی بسورتی، حرام کے بچے جنتی، ماتم کرتی نسوانیت سے ہمیشہ سے نفرت تھی؛ خواہ مخواہ کی وفا اور جملہ خوبیاں جو مشرقی عورت کا زیور سمجھی جاتی ہیں، مجھے لعنت معلوم ہوتی ہیں۔
    • پریس کانفرنس اور انٹرویو؛ اقتباس بحوالہ 'عصمت چغتائی کا فکری ارتقا'۔
  • انگریز چلے گئے اور چلتے چلتے ایسا گہرا گھاؤ مار گئے جو برسوں رسے گا۔ ہندوستان پر عملِ جراحی کچھ ایسے لنجے ہاتھوں اور گھٹل نشتروں سے ہوا ہے کہ ہزاروں شریانیں کٹ گئی ہیں۔ خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، کسی میں اتنی سکت نہیں کہ ٹانکا لگا سکے۔
    • افسانہ: جڑیں (مجموعہ: چوٹیں)۔
  • جب میں جاڑوں میں لحاف اوڑھتی ہوں، تو پاس کی دیواروں پر اس کی پرچھائیں ہاتھی کی طرح جھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور ایک دم سے میرا دماغ بیتی ہوئی دنیا کے پردوں میں دوڑنے بھاگنے لگتا ہے۔
    • افسانہ: لحاف (1942ء)۔
  • لکھتا وہی ہے جو کچھ نہ کچھ مجبور ہو۔ تندرست لوگ کیا جانیں ایک بیمار کے دل میں کیا کیا ارمان ہوتے ہیں۔ پرکٹا پرندہ ویسے نہیں تو خوابوں میں تو دنیا بھر کی سیر کر آتا ہے۔
    • خاکہ: دوزخی۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

بیرونی روابط

[ترمیم]
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں عصمت چغتائی.