مندرجات کا رخ کریں

فانی بدایونی

ویکی اقتباس سے

فانی بدایونی پیدائش: 6 اکتوبر 1879ء — وفات: 28 اگست 1941ء) اردو زبان کے ممتاز غزل گو شاعر تھے۔ ان کا اصل نام شوکت علی خان تھا۔ فانی بدایونیؔ کا شمار اردو ادب کے ان شعرا میں ہوتا ہے جن کی شاعری میں غم، یاس، محرومی اور داخلی کرب نمایاں ہے۔ وہ بدایوں میں پیدا ہوئے اور حیدرآباد دکن میں ان کا انتقال ہوا۔

اشعار

[ترمیم]
  • دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں
    روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں
  • زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
    ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
  • ہم نے تو درد کو سینے سے لگا رکھا ہے
    وہ جو کہتے ہیں کہ درد آتا ہے، جاتا ہے
  • غمِ حیات نے فانیؔ ترے دل کو کیا کیا
    کہ اب یہ حال ہے جیسے کوئی ویرانہ ہو
  • ہر ایک زخم پہ کہتے ہیں مسکرا کے فانیؔ
    یہ اور بات کہ دل خون ہو رہا ہوگا
  • ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو فانیؔ یہ خیال اچھا ہے
  • غم کی دنیا میں ہوں فانیؔ کسی مسافر کی طرح
    آج ٹھہرا ہوں یہاں، کل کو کہیں اور چلا
  • دل میں اب درد کے سوا کچھ بھی نہیں
    یہ بھی اک نعمتِ الٰہی ہے
  • کچھ تو تنہائی میں آوازِ جگر ہونی چاہیے
    غمِ دنیا کو سنانے کی خبر ہونی چاہیے
  • ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
    خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک
  • یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
    اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
  • غم ہی اپنا سرمایہ ہے فانیؔ
    اور کیا دے سکے ہیں زمانے کو

کتاب: دیوانِ فانی بدایونی صنف: غزل

بیرونی روابط

[ترمیم]
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں فانی بدایونی.