قطب مینار
قطب مینار کمپلیکس سلطنتِ دہلی کے عہد کی یادگار عمارتوں اور آثار کا ایک مجموعہ ہے جو مہرولی، دہلی میں واقع ہے۔ اس کمپلیکس میں واقع ’’فتح کے مینار‘‘ قطب مینار کی تعمیر قطب الدین ایبک نے شروع کی، جو بعد میں دہلی کا پہلا سلطان اور مملوک (غلام) خاندان کا بانی بنا۔
قطب مینار کا نام معروف صوفی بزرگ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے نام پر رکھا گیا۔ اس کی تعمیر قطب الدین ایبک کے بعد اس کے جانشین التتمش(المعروف التمش) نے جاری رکھی، اور بالآخر 1368ء میں فیروز شاہ تغلق نے، جو تغلق خاندان کا سلطان تھا، اسے مکمل کروایا۔
قطب مینار کے پہلو میں واقع مسجد قوتُ الاسلام مسجد (اسلام کی قوت) بھی اسی دور کی تعمیر ہے، جسے ابتدا میں ’’قبۃ الاسلام‘‘ کہا جاتا تھا، جو بعد میں بگڑ کر ’’قوتُ الاسلام‘‘ بن گیا۔
اقتباسات
[ترمیم]- مسجد کے وسط میں ایک حیرت انگیز ستون (لوہے کا ستون) واقع ہے، اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ کس دھات سے بنا ہے۔ وہاں کے ایک عالم نے مجھے بتایا کہ اسے ’’ہفت جوش‘‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ’’سات دھاتیں‘‘، اور یہ انہی سات دھاتوں سے تیار کیا گیا ہے۔ اس ستون کا ایک حصہ، انگلی کی چوڑائی کے برابر، چمکایا گیا ہے اور اس سے نہایت درخشاں روشنی پھوٹتی ہے۔ لوہا اس پر کوئی اثر نہیں کرتا۔ اس کی اونچائی تیس گز ہے (یہ عدد مبالغہ آمیز ہے) اور ہم نے اس کے گرد ایک پگڑی لپیٹی تو وہ آٹھ گز میں محیط ہو گئی۔ مشرقی دروازے پر پیتل کے دو عظیم بت زمین پر گرے ہوئے ہیں جنہیں پتھروں سے جکڑا گیا ہے، اور مسجد میں آنے جانے والا ہر شخص ان پر پاؤں رکھتا ہے۔ یہ جگہ پہلے ایک بت خانہ تھی جسے شہر کی فتح کے بعد مسجد میں بدل دیا گیا۔
شمالی صحن میں مینار (قطب مینار) واقع ہے، جس کی اسلامی دنیا میں کوئی مثال نہیں۔ یہ سرخ پتھر سے بنا ہے، باقی عمارتوں سے مختلف، مجسمہ نما نقش و نگار سے آراستہ اور نہایت بلند ہے۔ اس کی چوٹی پر سفید سنگِ مرمر کا گنبد ہے اور اس کے سیب (چھوٹے گولے) خالص سونے کے ہیں۔ اس کے اندر راستہ اتنا کشادہ ہے کہ ہاتھی اس پر چڑھ سکتے ہیں۔ ایک معتبر شخص نے مجھے بتایا کہ تعمیر کے وقت اس نے ہاتھی کو پتھر اوپر لے جاتے دیکھا۔ سلطان نے مغربی صحن میں اس سے بھی بڑا مینار بنانے کا ارادہ کیا تھا مگر صرف ایک تہائی تعمیر کے بعد وفات پا گیا۔
- ابن بطوطہ
- خوبصورت قطب مینار ایک عبوری دور کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ایک مسجد کا حصہ تھا جسے قطب الدین ایبک نے پرانے دہلی میں تعمیر کروایا۔ یہ ہندوؤں پر سلطان کی خونریز فتوحات کی یادگار تھا، اور ستائیس ہندو مندروں کو توڑ کر مسجد اور مینار کے لیے مواد فراہم کیا گیا۔ سات صدیوں کے بعد بھی یہ عظیم مینار، جو 250 فٹ بلند ہے، سرخ پتھر سے بنا، متناسب اور چوٹی پر سفید سنگِ مرمر سے مزین، ہندوستانی فن و تعمیر کا شاہکار ہے۔
- ول ڈیورانٹ
- اس تناظر میں یہ بھی شامل کرنا ضروری ہے کہ پورے ملک میں سیکڑوں مثالیں موجود ہیں جہاں قرونِ وسطیٰ میں مندروں کو منہدم کر کے ان کا مواد مساجد میں استعمال کیا گیا۔ دہلی میں قطب مینار کے قریب قوتُ الاسلام مسجد ایسی ہی مثال ہے، جس میں بڑی تعداد میں مندروں کے ستون شامل کیے گئے جو قطب الدین ایبک کے ہاتھوں منہدم ہوئے۔
- بی۔ بی۔ لال
- قطب الدین ایبک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے تقریباً ایک ہزار مندروں کو منہدم کیا اور ان کی بنیادوں پر مساجد تعمیر کیں۔ جامع مسجد دہلی بھی انہی مندروں کے پتھروں اور سونے سے آراستہ کی گئی جنہیں ہاتھیوں کے ذریعے توڑا گیا۔
- ڈاکٹر مرے ٹائٹس (بحوالہ امبیڈکر)
- قوتُ الاسلام مسجد اور اجمیر کی اڑھائی دن کا جھونپڑا محض باقیات کا مجموعہ نہیں بلکہ پیشہ ور معماروں کے منصوبہ بند کام ہیں، جو ہندو اور اسلامی فن تعمیر کے امتزاج کا واضح ثبوت ہیں۔
- سید محمود الحسن
- دہلی ہندوستان میں اسلامی فنِ تعمیر کا سرچشمہ بنی۔ قوتُ الاسلام مسجد ہندو اور جین مندروں کے ستونوں اور چھتوں سے تیار کی گئی، جسے بجا طور پر ’’اسلام کی قوت‘‘ کہا گیا۔
- سید محمود الحسن
- مسجد کے مشرقی دروازے پر موجود فارسی کتبہ گواہی دیتا ہے کہ اس کی تعمیر میں ستائیس بت خانوں کا مواد استعمال ہوا۔
- کتبہ، قوتُ الاسلام مسجد
- دہلی کی پہلی مسجد قوتُ الاسلام ہے، جو مندروں کو گرا کر تعمیر کی گئی۔ بعد میں التتمش نے اس کے اطراف سفید پتھر کی عمارتیں بنائیں اور دنیا کا بلند ترین مینار تعمیر کروایا۔
- حکیم سید عبدالحی
- سلطانوں نے اسلامی اقتدار کے اظہار کے لیے عظیم الشان عمارتیں تعمیر کیں۔ قطب مینار اور قوتُ الاسلام مسجد محض عبادت گاہیں نہیں بلکہ سیاسی طاقت کی علامت تھیں۔
- گورڈن سینڈرسن
- قوتُ الاسلام مسجد کا نام ہی اس کی نیت کو واضح کرتا ہے — ’’اسلام کی قوت‘‘۔ قطب مینار کو فتح کے ستون کے طور پر دیکھا گیا، اور غیر مسلموں کے لیے پیغام بالکل واضح تھا۔
- میناکشی جین
- بعض جدید علمی حلقے مندروں کی مسماری کا ذکر نہیں کرتے بلکہ انہیں ’’ری سائیکل شدہ اجزا‘‘ کہتے ہیں، حالانکہ یہ عبادت گاہیں تھیں، ملبہ نہیں۔
- میناکشی جین
- جب دہلی فتح ہوئی تو بت خانے مساجد میں بدل دیے گئے، اور مندروں کے پتھر اور سونا اسلامی عبادت گاہوں کی زینت بنے۔
- حسن نظامی
- قطب مینار دنیا کا سب سے بلند ستون ہے، جو سرخ پتھر سے بنا ہے اور برہمنی اقتدار پر محمدی غلبے کی یادگار ہے۔
- کیپٹن لیوپولڈ فان اورلچ
- قطب الدین نے جامع مسجد دہلی تعمیر کی اور مندروں سے حاصل کردہ سونا اور پتھر اس میں لگایا، تاکہ اسلامی فتح کا اعلان ہو۔
- تاریخِ دہلی
