محمد اعزاز علی امروہوی
ظاہری ہیئت
محمد اعزاز علی امروہوی (1883–1955ء) ایک ہندوستانی عالم دین، ادیب، فقیہ، مفتی، محشِّی (حاشیہ نگار)، مترجم اور مصنف تھے، جنھوں نے دار العلوم دیوبند میں تقریباً پینتالیس (45) سال اور مجموعی طور پر نصف صدی سے زائد عرصے تک تدریسی خدمات انجام دیں۔
اقتباسات
[ترمیم]- اے طالبانِ علم دین! یاد رکھو کہ علم دین دو امر پر موقوف ہے:- ایک امر تو یہ ہے کہ اس کی تحصیل میں جان توڑ کوشش کرو اور اس کے سوا ہر طرف سے اپنی نگاہیں پھیر لو۔ فإنَّ العلمَ لا يُعطيكَ بعضَه حتى تُعطيَه کلَّك کیونکہ علم ایک ایسی چیز ہے جو اس وقت تک اپنا تھوڑا سا حصہ نہیں دیتی جب تک کہ تم اسے پوری زندگی نہ دے دو۔ اور دوسرا امر یہ ہے کہ اپنے اندر خدا ترسی، اتباعِ سنت اور اخلاصِ عمل کا غیر معمولی جذبہ پیدا کرو اور یاد رکھو کہ تم اِس دوسرے کی طرف، بہ نسبت پہلے کے، زیادہ محتاج ہو۔
- سید محمد عبد الاحد قاسمی (1955) (in اردو). حیاتِ اعزاز (پہلا ed.). چوک بازار، ڈھاکہ: حمیدیہ لائبریری. pp. 35–36.
اقوال
[ترمیم]- اساتذہ اور کتابوں کی تعظیم، نیز ایسے اہل علم کی تعظیم ضرور کرو، جن کو علم و عمل کے اعتبار سے تم پر تفوّق حاصل ہو۔
- سید محمد عبد الاحد قاسمی (1955) (in اردو). حیاتِ اعزاز (پہلا ed.). چوک بازار، ڈھاکہ: حمیدیہ لائبریری. p. 36.
- خبردار! خبردار!! علومِ دینیہ کے ذریعہ دنیا اور دنیوی عزت کے خواہاں نہ بنو۔
- حوالۂ سابق، ص: 37۔
- خود پسندی اور کبر سے بچتے رہو، نیز تحصیلِ علم میں حیا سے بھی پرہیز کرو؛ کیونکہ راہِ علم میں حیا اور کبر دو چیزیں جہالت کی سرسبز چراگاہیں ہیں۔
- حوالۂ سابق، ص: 37۔
