مندرجات کا رخ کریں

محمد اقبال

ویکی اقتباس سے
علامہ اقبال کا مزار

محمد اقبال (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔

اقوال

[ترمیم]
  • اختتام اور مقاصد، چاہے وہ شعوری یا لاشعوری رجحانات کے طور پر موجود ہوں، ہمارے شعوری تجربے کی تپش اور ڈھنگ کی تشکیل کرتے ہیں۔
    • اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو (1930)، صفحہ۔ 42
  • قوی انسان ماحول تخلیق کرتا ہے۔ کمزوروں کو ماحول کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا پڑتا ہے۔
  • قوت باطل کو چھو لیتی ہے تو باطل حق میں بدل جاتا ہے۔
  • تہذیب مرد قوی کا ایک خیال ہے۔
  • پیکر قوت مہدی کا انتظار چھوڑ دو، جاؤ اور مہدی کو تخلیق کرو۔
    • شذرات اقبال، مجلس ترقی ادب، لاہور

(بال جبریل 042) یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی

  • یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبحگاہی، کہ خودی کے عرفا کا ہے مقام پادشاہی
  • تیری زندگی اسی سے، تیری آبرو اسی سے، جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو روسیاہی
  • نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو نے، مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے، تو نہ رہ نشین نہ راہی
  • میرے حلقہ سخن میں ابھی زیر تربیت ہیں، وہ گدا کہ جانتے ہیں راہ و رسم کجکلاحی
  • یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تو کر، کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق خانقاہی
  • تو ہما کا ہے شکاری، ابھی ابتدا ہے تیری، نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و ماہی
  • تو عرب ہو یا عجم ہو، تیرا ”لا الہ الا اللہ“، لغت غریب، جب تک تیرا دل نہ دے گواہی

(بال جبریل 145) روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے

  • کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ، مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
  • اس جلوۂ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھ، ایامِ جدائی کے ستم دیکھ، جفا دیکھ، بیتاب نہ ہو معرکۂ بیم و رجا دیکھ
  • ہیں تیرے تصرف میں یہ بدل، یہ گھٹائیں، یہ گنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں
  • یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں، تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں، آئینۂ ایام میں آج اپنی ادا دیکھ
  • سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے، دیکھیں گے تجھے دور سے گردوں کے ستارے
  • نہ پيد تيرے بحر تخیل کے کنارے، پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے، تعمیر خودی کر، اثر آہ رسا دیکھ
  • خورشید جہاں تاب کی جو تیرے شرر میں، آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں
  • جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں، جنت تری پنہاں ہے تیرے خون جگر میں، اے پیکرِ گل کوشش پہم کی جزا دیکھ
  • نالندا تیرے عود کا ہر تار ازل سے، تو جنس محبت کا خیریدار ازل سے
  • تو پیر صنم خانۂ اسرار ازل سے، محنت کش و خون ریز و کم آزار ازل سے، ہے رکاب تقدیر جہاں تیری رضا، دیکھ

(بانگِ درا ۰۲۱) دردِ عشق

  • اے دردِ عشق! ہے گوہرِ ابد تُو، نہ مہرموں میں دیکھ نہ ہو آشکارا تُو
  • پنہاں تہِ نقاب تری جلوگاہ ہے، ظاہر پرست محفلِ نو کی نگاہ ہے
  • آئی نئی ہوا چمنِ ہست و بود میں، اے دردِ عشق! اب نہیں لذت نمود میں
  • ہاں، خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو، مِنّت پذیر نالۂ بلبل کا تُو نہ ہو
  • خالی شرابِ عشق سے لالہ کا جام ہو، پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو
  • پنہاں دروںِ سینا کہیں راز ہو تیرا، اشکِ جگر گداز نہ غمّاز ہو تیرا
  • گویا زبانِ شاعرِ رنگین بیاں نہ ہو، آوازِ نے میں شکوۂ فرصت نہاں نہ ہو
  • یہ دور نکته چین ہے، کہیں چُپ کے بیٹھ رہ، جس دل میں تُو مکیں ہے، وہیں چُپ کے بیٹھ رہ
  • غافل ہے تجھ سے حیرتِ علم آفریدہ دیکھ! جویا نہیں تری نگاہِ نارسیدہ دیکھ
  • رہنے دے جستجو میں خیالِ بلند کو، حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو
  • جس کی بہار تُو ہو یہ ایسا چمن نہیں، قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں
  • یہ انجمن ہے کشتۂ نظرۂ مجاز، مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز
  • ہر دل مئے خیال کی مستی سے چور ہے، کچھ اور آج کل کے کلاموں کا طور ہے

(بانگِ درا-۱۲۳) قربِ سلطان

  • تمیزِ حاکم و محکوم مٹ نہیں سکتی، مجال کیا کہ گداگر ہو شاہ کا ہم دوش
  • جہاں میں خواجہ پرستی ہے بندے کا کمال، رضائے خواجہ طلب کن قبائے رنگین پوش
  • مگر غرض جو حصولِ رضائے حاکم ہو، خطاب ملتا ہے منصب پرست و قوم فروش
  • پرانے طرزِ عمل میں ہزار مشکل ہے، نئے اصول سے خالی ہے فکر کی آغوش
  • مزا تو یہ ہے کہ یوں زیرِ آسمان رہیے، "ہزار گونہ سخن در دہن و لب خاموش
  • یہی اصول ہے سرمایۂ سکونِ حیات، "گدائے گوشہ نشینی تو حافظہ مے خروش
  • مگر خروش پہ مائل ہے تُو تو بسم اللہ، "بگیر بادۂ صافی بہ بانگِ چنگ بنوش
  • شریکِ بزمِ امیر و وزیر و سلطان ہو، لڑا کے توڑ دے سنگِ ہوس سے شیشۂ ہوش
  • پیامِ مرشدِ شیراز بھی مگر سن لے، کہ ہے یہ سرِّ نہاں خانۂ ضمیرِ سر فروش
  • "مہلِ نورِ تجلّی ست رای انور شاہ، چو قرب طلبی در صفائے نیت کُش

(بانگِ درا-۱۵۵) پھول

  • تجھے کیوں فکر ہے اے گل دلِ سد چاکِ بلبل کی، تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے
  • تمنّا آبرو کی ہو اگر گلزارِ ہستی میں، تو کانٹوں میں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے
  • صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پابندِ گِل بھی ہے، انہیں پابندیوں میں حصولِ آزادی کو تو کر لے
  • تَنک بخشی کو استغنا سے پیغامِ خجالت دے، نہ رہ منّت کشِ شبنم، نگوں جام و سبو کر لے
  • نہیں یہ شانِ خوداری، چمن سے توڑ کر تجھ کو، کوئی دستار میں رکھ لے، کوئی زيبِ گلو کر لے
  • چمن میں غنچۂ گل سے یہ کہ کر اڑ گئی شبنم، مذاقِ جورِ گلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے
  • اگر منظور ہو تجھ کو خزاں ناآشنا رہنا، جہانِ رنگ و بو سے، پہلے قطعِ آرزو کر لے
  • اس میں دیکھ، مضمر ہے کمالِ زندگی تیرا، جو تجھ کو زينتِ دامن کوئی آئینہ رو کر لے

(ضربِ کلیم-۰۰۹) زمین و آسمان

  • ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں، اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا
  • ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا
  • ہے سلسلہ احوال کا ہر لمحہ دگرگوں، اے سالکِ راہ، فکر نہ کر سود و زیاں کا

(ضربِ کلیم-۱۱۹) نگاہِ شوق

  • یہ کائنات چھپاتی نہیں ضمیر اپنا، کہ ذرہ ذرہ میں ہے ذوقِ آشکارائی
  • کچھ اور ہی نظر آتا ہے کاروبارِ جہاں، نگاہِ شوق اگر ہو شریکِ بینائی
  • اسی نگاہ سے مہجوم قوم کے فرزند، ہوئے جہاں میں سزاوارِ کار فرمائی
  • اسی نگاہ میں ہے قاہری و جباری، اسی نگاہ میں ہے دلبری و رعنائی
  • اسی نگاہ سے ہر ذرّے کو، جنون میرا، سکھا رہا ہے راہ و رسمِ دشتِ پیمائی
  • نگاہِ شوق میسر نہیں اگر تجھ کو، ترا وجود ہے قلب و نظر کی رسوائی

پہاڑ اور گلہری

کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا ایک گلہری سے, تُجھے ہو شرم تو پانی میں جاکر دوں مر ذرا سی چیز ہے, اس پر غرور کیا کہنا, یہ عقل اور یہ سمجھ, یہ شعو کیا کتنا خدا کی شاں ہے, نہ چیز, چیز بن بیٹھے,جو بے شعور ہوں یوں با بن بیٹھے تی بساط ہے کیا, میری شاں کے آگے, زمین ہے پست میری آن بان کی آگے جو بات مجھ میں ہے, توجہ کو وہ ہے نصیب کہاں, بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں کہاں یہ سن کر گلہری نے منہ سنبھال ذرا, یہ کچّی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا ہوا, نہیں ہے تو بھی تو آخر میری طرح چھوٹا ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی خدا کی قدرت ہے, کوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اسی کی حکمت ہے بڑا جہاں میں توجہ کو بنا دیا اس نے , مجھے درخت پر چڑھنا سیکھا دیا اس نے قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا توجہ میں, میری برائی ہے خوبی اور کیا ہے توجہ مریں جو تو بڑا ہے, تو مجھ سا ہنر دکھا, یہ چھالیہ ہے ذرا توڑ کر دیکھا مجھ کو نہیں ہے چیز ایکمی کوئی زمانے مریں, کوئی بڑا نہیں قدرت کے کارخانے میں۔

اقبال کے بارے میں اقتباسات

[ترمیم]
  • اقبال کے فکر و فلسفہ کا مرکزی مسئلہ نہ خودی ہے، نہ عشق، نہ عمل، اور نہ ہی قوت و حرکت؛ بلکہ ان سب کے برخلاف موت اقبال کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ان کے وجود میں ایک ایسی لرزش اور ہلچل پیدا کرتا ہے جو ان کی پوری ہستی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔
    • ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 8
  • اقبال کے بارے میں اردو تنقید کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے کہ “عظیم مفکر” ہونا لازماً “عظیم شاعر” ہونے کے مترادف نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسفے کو شاعری میں ڈھالنے کے مقابلے میں شاعری کو فلسفے میں بیان کرنا شاید زیادہ آسان ہے-
    • ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 12
  • اقبال کو اردو شاعری میں مختلف اسالیب کے ایک کامل و مکمل کرنے والے شاعر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اور ساتھ ہی بہت سے نئے اسالیب کے موجد کے طور پر بھی۔
    • ہاؤ ٹو ریڈ اقبال ص 34

اقبال لاہور کی شاہی مسجد کے احاطے میں مدفون ہیں، اور ان کی قبر پر سپاہی پہرہ دیتے ہیں۔ اس قسم کی جذباتی یا خطیبانہ علامتیں ہمیشہ تشویش پیدا کرتی ہیں، کیونکہ وہ اکثر حقیقت پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔ اور مغلیہ طرزِ تعمیر سے مزین یہ مقبرہ خود ایک طرح کی فنی بے حرمتی محسوس ہوتا، اگر اس کے بالکل سامنے لاہور کا عظیم مغل قلعہ—جس کی شاہی جھروکے کی منظرکشی مغلیہ مصوری کے بہترین نمونوں میں محفوظ ہے—خستہ حالی کا شکار نہ ہوتا؛ اگر اسی لاہور میں شالامار باغ اور شہنشاہ جہانگیر اور ان کی ملکہ کے مقبرے مکمل زوال کا شکار نہ ہوتے؛ اگر چار سو برس پیچھے جائیں تو بہاولپور کے علاقے اُچ میں تیرھویں صدی کے مقبروں کے نہایت نفیس رنگین ٹائلوں سے آراستہ مینار، جو برصغیر کے بہترین اسلامی آثار میں شمار ہوتے ہیں، آدھے بہہ نہ چکے ہوتے؛ اگر اس سے بھی زیادہ قدیم دور میں بدھ مت کے تاریخی شہر ٹیکسلا، جسے سکندر اعظم بھی جانتا تھا اور جہاں کبھی بے مثال آثار موجود تھے، کے گردونواح کو لفظی معنوں میں کان کنی کے ذریعے تباہ نہ کیا جا رہا ہوتا؛ اور اگر پاکستان، جو اب بھی اسلامی سلطنت کے خوابوں کا تعاقب کر رہا ہے، افغانستان کے بدھ مت کے نوادرات کی آخری لوٹ مار کا ذمہ دار نہ ہوتا۔ اپنی مختصر تاریخ میں اقبال کی مذہبی ریاست—جو اب بھی نیم جاگیردارانہ، گہری جہالت میں مبتلا، اپنے نصابی کتب میں تاریخ کو مسخ کرنے والی، اور اسی ریاستی نظام کو کمزور کرنے والی ثابت ہوئی جس کی اسے خدمت کرنی تھی—نے خود کو صرف ایک ایسے ثقافتی صحرا کے تصور سے وابستہ دکھایا، جہاں عظمت کی ہر شکل ہمیشہ کہیں اور سمجھی جاتی رہی۔ — پھر بھی یہ عجیب بات تھی کہ پاکستان کا جھکاؤ عرب دنیا کی طرف اس قدر نمایاں تھا: عرب لباس پہنے ایک ننھا بچہ، اور پاکستان اسٹیل منصوبے کا نام بھی ایک عرب فاتح کے نام پر رکھ دیا گیا۔ شاعر اقبال نے 1930ء میں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کا اسلام اپنی نوعیت میں منفرد ہے، "ایک قوم کو تشکیل دینے والی قوت… اپنی بہترین شکل میں۔" انہوں نے کہا تھا: "لہٰذا میں ہندوستان اور اسلام دونوں کے بہترین مفاد میں ایک متحدہ مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتا ہوں۔ ہندوستان کے لیے اس کا مطلب امن اور سلامتی ہے… اور اسلام کے لیے یہ ایک ایسا موقع ہے کہ وہ اس مہر سے نجات حاصل کرے جو عرب سامراج نے اس پر ثبت کر دی تھی۔" لیکن 1930ء کے بعد دنیا بدل چکی تھی۔ عرب دنیا دوبارہ عالمی معاملات میں اثر و رسوخ حاصل کر چکی تھی، اور 1947ء کے بعد پاکستان بھی بدل گیا تھا۔ اب وہ صرف اقبال کی تصور کردہ مسلم ریاست کا خواہاں نہ رہا، بلکہ اپنی ناکامیوں کے پس منظر میں ایک ناممکن حد تک خالص مذہب کی تلاش میں اپنے عربی ماضی کی طرف رجوع کرنے لگا—ایک ایسا ماضی جو بیک وقت پراسرار بھی تھا اور حقیقی بھی۔ بنبھور میں، جو ابتدائی عرب سلطنتوں کی ایک دور افتادہ چوکی تھی، آپ انسانی ہڈیوں پر چلتے تھے۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں محمد اقبال.