محمود مدنی
ظاہری ہیئت
محمود اسعد مدنی (پیدائش: 3 مارچ 1964ء) بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک عالم دین، سماجی کارکن، سیاست دان اور جمعیۃ علماء ہند (میم) کے صدر ہیں۔ وہ اس سے قبل جمعیۃ علماء ہند کے ناظمِ عمومی رہ چکے ہیں، نیز 2006ء سے 2012ء تک ریاست اتر پردیش سے راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے رکن کی حیثیت سے راجیہ سبھا (بھارتی ایوانِ بالا) کے رکن بھی رہے۔
اقوال
[ترمیم]- ردعمل کی سیاست میں الجھنے کے بجائے جہد مسلسل کی راہ پر گامزن رہنا ضروری ہے۔
- ’جمعیۃ علماء ہند جذباتیت اور اشتعال انگیزی کو ملت کے لیے زہر سمجھتی ہے‘، آسام میں مولانا محمود مدنی کا خطاب، ماخذ: قومی آواز، تاریخ اشاعت: 21 نومبر 2024ء۔
- وہ (مسلمان) تعلیم، تہذیب، معاشرت اور معاشیات کے مسائل پرتوجہ دیں، کیوںکہ کوئی قوم معیشت اور علم کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی ہے۔
- حوالۂ سابق (21 نومبر 2024ء)۔
- بھارت کو مسلمانوں نے اپنی پسند سے انتخاب کیا۔ جناح بھارت کے مسلمانوں کے پیر پر کلہاڑی مار کر گئے تھے، ایسے میں بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ جناح کو نہیں جوڑنا چاہیے۔
- مولانا محمود مدنی کا مشورہ مسلمان چاہے تو بی جے پی کو ووٹ دے، روزنامہ خبریں، تاریخ اشاعت: یکم جنوری 2022ء۔
- اسلام کے دشمنوں نے جہاد کے لفظ کو تشدد اور نفرت کے مترادف بنا دیا ہے، حالانکہ اسلام میں یہ ایک پاک فریضہ ہے۔ ... ’’جب جب ظلم ہوگا تب تب جہاد ہوگا۔ میں اسے دوبارہ دہراتا ہوں، جب جب ظلم ہوگا تب تب جہاد ہوگا۔‘‘
- ’جب تک ظلم ہو گاتب تک جہاد بھی جاری رہے گا۔۔۔،‘ مولانا محمود مدنی کا بیان ، سپریم کورٹ پر بھی سخت تنقید، ماخذ: بھارت ایکسپریس، تاریخ اشاعت: 29 نومبر 2025ء۔
- اجتماعیت ہی وہ ذریعہ ہے جو کام میں تسلسل، حوصلہ اور اثر انگیزی پیدا کرتی ہے۔
- نئی نسل کے ایمان کا تحفظ وقت کا اولین تقاضہ: مولانا محمود اسعد مدنی، ماخذ: روزنامہ میرا وطن، تاریخ اشاعت: 29 دسمبر 2025ء۔
- نیت کی اصلاح کوئی وقتی عمل نہیں بلکہ ایک دائمی جدوجہد ہے، جس کے لیے مسلسل خود احتسابی اور اللہ تعالیٰ سے رجوع ناگزیر ہے۔
- حوالۂ سابق (29 دسمبر 2025ء)۔
- پُرفتن حالات میں بچوں اور بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت ایک عظیم امانت ہے، جس میں کسی بھی قسم کی غفلت ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
- حوالۂ سابق (29 دسمبر 2025ء)۔