مولانا آزاد
ظاہری ہیئت
ابوالکلام غلام محی الدین احمد بن خیرالدین الحسینی آزاد (11 نومبر 1888 - 22 فروری 1958) آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے۔
اقتباسات
[ترمیم]قول فیصل
[ترمیم]- تاریخ عالم کی سب سے بڑی ناانصافیاں میدان جنگ کے بعد عدالت کے ایوانوں ہی میں ہوئی ہیں۔ دنیا کے مقدس بانیان مذہب سے لیکر سائنس کے محققین اور مکتشفین تک، کوئی پاک اور حق پسند جماعت نہیں ہے جو مجرموں کی طرح عدالت کے سامنے کھڑی نہ کی گئی ہو۔
- ص۔ 71
- سنٹرل خلافت کمیٹی اور جمعیۃ العلماء ہند نے اگر چہ اس کی اجازت دے دی ہے کہ پبلک کی واقفیت کے لیے تحریری بیان دیا جا سکتا ہے، لیکن ذاتی طور پر میں لوگوں کو یہی مشورہ دیتا رہا کہ خاموشی کو ترجیح ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو شخص اس لیے بیان دیتا ہے کہ مجرم نہیں ، اگر چہ اس کا مقصد پبلک کی واقفیت ہو، تاہم وہ اشتباہ سے محفوظ نہیں ہے-
- ص- 69
- میں جانتا ہوں کہ گورنمنٹ فرشتہ کی طرح معصوم ہونے کا دعوئی رکھتی ہے کیونکہ اس نے خطاؤں کے اقرار سے ہمیشہ انکار کیا لیکن مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس نے مسیح ہونے کا کبھی دعوی نہیں کیا۔ پھر میں کیوں اُمید کروں کہ وہ اپنے مخالفوں کو پیار کرے گی ؟
- ص-74
- میں نے اپنے سامنے دو حقیقیقیں بے نقاب دیکھیں: ایک یہ کہ گورنمنٹ کی تمام طاقت کلکتہ میں سمٹ آئی ہے۔ اس لیے فتح و شکست کا پہلا فیصلہ یہیں ہو گا دوسری یہ کہ ہم کل تک پوری آزادی کے لیے جدو جہد کر رہے تھے لیکن موجودہ حالت نے بتلا دیا کہ ہماری آزادی کی مبادیات تک محفوظ نہیں ہیں۔ آزادی تقریر اور آزادی اجتماع انسان کے پیدائشی حقوق ہیں۔
- ص-78
- طاقتور آدمی کو شکست کے بعد زیادہ غصہ آتا ہے، لیکن کوئی شکست اس لیے فتح نہیں بن سکتی کہ ہم بہت زیادہ جھنجھلا سکتے ہیں !
- ص-80
- یہ سچ ہے کہ نان کو آپریٹر کسی طرح کا ڈیفنس نہیں کرتے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے کہ آدمی اپنے تمام کپڑے اتار ڈالے۔ اس لیے کہ شریف آنکھیں بند کر لیں گے۔ شریف آدمیوں نے تو سچ مچ آنکھیں بند کر لی ہیں، لیکن دنیا کی آنکھیں بند نہیں ہیں !
- ص-82
- فی الحقیقت لاء اور آرڈر کا ایک ڈرامہ کھیلا جا رہا ہے جسے ہم کامیڈی اور ٹریجڈی دونوں کہہ سکتے ہیں۔
- ص-82
