مندرجات کا رخ کریں

نور الدین جہانگیر

ویکی اقتباس سے
باز کے ساتھ گھڑ سواری کرتے ہوئے جہانگیر


نور الدین محمد سلیم (31 اگست 1569ء – 28 اکتوبر 1627ء)، جو اپنے شاہی لقب جہانگیر (بمعنی ’’فاتحِ عالم‘‘) سے مشہور ہیں، مغلیہ سلطنت کے چوتھے بادشاہ تھے۔ انہوں نے 1605ء سے اپنی وفات 1627ء تک حکومت کی۔

اقتباسات

[ترمیم]
  • ایک ہندو ارجن نامی شخص گووندوال میں دریائے بیاس کے کنارے ایک درویش کے بھیس میں اور نمود و نمائش کے ساتھ رہتا تھا۔ ہر طرف سے چرواہے اور احمق لوگ اس کے اندھے پیروکار بن گئے تھے۔ یہ دھندا تین چار نسلوں سے چل رہا تھا۔ مدت سے میرے دل میں یہ بات تھی کہ اس دکانِ باطل کو بند کیا جائے یا اسے اسلام کے دائرے میں لایا جائے۔ … میں نے حکم دیا کہ اسے طلب کیا جائے۔ اس کے مکانات، ڈیرے اور بیٹے مرتضیٰ خان کے سپرد کر دیے گئے۔ اس کی جائیداد اور نقدی ضبط کر لی گئی اور میں نے حکم دیا کہ اسے اذیت دے کر قتل کیا جائے۔
    • تزکِ جہانگیری، نیز حوالہ: دی مغل ایمپائر (1526–1707)، جلد 7
  • سات آذر کو میں پشکر کے تالاب پر شکار کے لیے گیا، جو ہندوؤں کی عبادت گاہوں میں سے ایک ہے، جس کی تعریفیں وہ ایسی بیان کرتے ہیں جو عقل سے بعید ہیں۔ یہ اجمیر سے تین کوس کے فاصلے پر واقع ہے۔ دو تین دن میں نے اس تالاب میں آبی پرندوں کا شکار کیا اور پھر اجمیر واپس آیا۔ اس تالاب کے گرد پرانے اور نئے مندر موجود ہیں جنہیں کفار کی زبان میں دیوہرا کہا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک نہایت شاندار مندر رانا شنکر نے بنوایا تھا، جس پر ایک لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔ میں نے اس مندر کو دیکھا۔ وہاں سیاہ پتھر سے تراشی ہوئی ایک مورتی تھی، جس کا سر سور کی مانند تھا اور باقی جسم انسان کا۔ ہندوؤں کا یہ بے وقعت مذہب ہے کہ کسی زمانے میں کسی مقصد کے لیے اعلیٰ حاکم نے اس شکل میں ظہور کیا، اسی لیے وہ اس کی عبادت کرتے ہیں۔ میں نے حکم دیا کہ اس بدصورت مورتی کو توڑ کر تالاب میں پھینک دیا جائے۔

اس کے بعد ایک پہاڑی پر سفید گنبد نظر آیا، جہاں لوگ جمع ہو رہے تھے۔ بتایا گیا کہ وہاں ایک جوگی رہتا ہے جو سادہ لوح لوگوں کو آٹا دیتا ہے جسے وہ جانوروں کی آواز نکال کر کھاتے ہیں تاکہ گناہ دھل جائیں۔ میں نے حکم دیا کہ اس جگہ کو گرا دیا جائے، جوگی کو نکال دیا جائے اور وہاں موجود بت کو بھی تباہ کر دیا جائے۔

    • اجمیر، پشکر (راجستھان)، تزکِ جہانگیری، ترجمہ الیگزینڈر راجرز، جلد اول، صفحات 254–255
  • اسی مہینے کی چوبیس تاریخ کو میں قلعہ کنگرا دیکھنے گیا اور حکم دیا کہ قاضی، میرِ عدل اور دیگر علمائے اسلام میرے ساتھ ہوں تاکہ قلعے میں دینِ محمدی کے مطابق امور انجام دیے جائیں۔ قلعے کی چوٹی پر پہنچ کر اذان، خطبہ اور بیل کی قربانی میرے سامنے ادا کی گئی، جو اس قلعے کی تعمیر کے بعد پہلی بار ہوئی۔ میں نے شکرانے میں سجدہ کیا اور قلعے کے اندر ایک بلند مسجد بنانے کا حکم دیا۔

بعد ازاں میں نے درگا کے مندر بھون کو دیکھا۔ یہاں ایک دنیا گمراہی کے صحرا میں بھٹکتی رہی ہے۔ اسلام کے لوگ دور دور سے نذرانے لا کر سیاہ پتھر کی پوجا کرتے ہیں۔ میں نے اس جگہ کو گمراہی کی دکان قرار دیا۔

    • کنگرا (ہماچل پردیش)، تزکِ جہانگیری، جلد دوم، صفحات 223–225
  • بنارس میں راجہ مان سنگھ کا بنایا ہوا ایک مندر تھا، جس پر تقریباً چھتیس لاکھ اشرفیاں خرچ ہوئی تھیں۔ اس مندر کے مرکزی بت کے سر پر جواہرات سے جڑا تاج تھا۔ یہ عقیدہ تھا کہ مردہ ہندو کو اگر اس بت کے سامنے رکھا جائے تو وہ زندہ ہو جائے گا۔ میں نے اس دعوے کی تحقیق کروائی اور اسے صریح فریب پایا۔ چنانچہ میں نے اس مندر کو گرا کر اسی مواد سے وہاں عظیم مسجد تعمیر کروائی، کیونکہ بنارس میں اسلام کا نام تک ممنوع تھا، اور میری نیت ہے کہ اگر زندہ رہا تو اسے سچے مومنوں سے بھر دوں۔
    • بنارس (اتر پردیش)، تزکِ جہانگیری، ترجمہ میجر ڈیوڈ پرائس، صفحات 24–25

بیرونی روابط

[ترمیم]
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں نور الدین جہانگیر.