مندرجات کا رخ کریں

کلیم عاجز

ویکی اقتباس سے

کلیم احمد عاجز (1920 – c. 14 فروری 2015) اردو ادب کے ہندوستانی ادیب اور شاعر تھے۔ وہ ماہر تعلیم اور حکومت بہار کی اردو ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے ساری زندگی اردو زبان کی خدمت کی اور بڑے پیمانے پر شاعر میر تقی میر کے مکتب کے کلاسیکل شاعر سمجھے جاتے تھے۔ انہیں 1989 میں حکومت ہند کی طرف سے ادب اور تعلیم میں پدم شری ایوارڈ دیا گیا

اقتباسات

[ترمیم]
  • اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو

روز ایک غزل ہم سے کہلوائے چلو ہو

  • رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں

چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو

  • دیوانہ گل قیدئ زنجیر ہیں اور تم

کیا ٹھاٹ سے گلشن کی ہوا کھائے چلو ہو

  • مے میں کوئی خامی ہے نہ ساغر میں کوئی کھوٹ

پینا نہیں آئے ہے تو چھلکائے چلو ہو

  • ہم کچھ نہیں کہتے ہیں کوئی کچھ نہیں کہتا

تم کیا ہو تمہیں سب سے کہلوائے چلو ہو

  • زلفوں کی تو فطرت ہی ہے لیکن مرے پیارے

زلفوں سے زیادہ تمہیں بل کھائے چلو ہو

  • وہ شوخ ستم گر تو ستم ڈھائے چلے ہے

تم ہو کہ کلیمؔ اپنی غزل گائے چلو ہو

بیرونی روابط

[ترمیم]
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں کلیم عاجز.