مندرجات کا رخ کریں

گودان

ویکی اقتباس سے

گودان مشہور ہندوستانی ادیب پریم چند کا شہرۂ آفاق اور آخری مکمل ناول ہے جو پہلی بار 1936ء میں شائع ہوا۔ یہ اردو اور ہندی ادب کا وہ عظیم شاہکار ہے جس میں برصغیر کے دیہی نظام، کسانوں کے معاشی استحصال اور معاشرتی ناہمواریوں کی حقیقی عکاسی کی گئی ہے۔

اقتباسات

[ترمیم]
  • جب تک ہتھیاؤ، تب تک اپنے ہو۔ جہاں ہاتھ روکا، پھر کوئی کسی کا نہیں ہے۔ دنیا کا یہی دستور ہے۔
    پریم چند، گودان، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، ایڈیشن 1985ء، باب 1، ص: 12۔
  • آدمی کا دل سب سے بڑا قاضی ہے۔ جب تک وہ گواہی نہ دے، دنیا کی کوئی عدالت آپ کو سچا نہیں ثابت کر سکتی۔
    پریم چند، گودان، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، ایڈیشن 1985ء، باب 3، ص: 45۔
  • بپتا انسان کو جتنا سکھاتی ہے، اتنا دنیا کا کوئی مدرسہ نہیں سکھا سکتا۔ مصیبت میں عقل کند نہیں ہوتی بلکہ اور تیز ہو جاتی ہے۔
    پریم چند، گودان، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، ایڈیشن 1985ء، باب 12، ص: 164۔
  • کسان کا دھرم اور ایمان صرف اس کی زمین اور بیل ہیں۔ زمین چھن گئی تو سمجھو کسان کا جینا ہی بے کار ہو گیا۔
    پریم چند، گودان، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، ایڈیشن 1985ء، باب 22، ص: 310۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

بیرونی روابط

[ترمیم]
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں گودان.