عمر بن خطاب

وکی اقتباسات سے
(حضرت عمر فاروق اعظم سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

'حضرت عمر فاروق اعظم'، خلیفۂ اوّل ابوبکرصدیق کے بعد سنی مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔ ان كے دور میں اسلامی مملکت 28 لاکھ مربع میل کے رقبے پر پھیل گئی۔ایک غلام ابو لولو فیروز نے آپ کو فجر کی نماز میں مسجد نبوی میں خنجر سے حملہ کیا اور تین جگہ وار کیے۔ آپ ان زخموں سے جانبر نہ ہوسکے اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کے بعد اتفاق رائے سے حضرت عثمان کو امیر المومنین منتخب کیا گیا۔

اقوال[ترمیم]

  • جو شخص نمازبرباد کرتا ہے اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔
  • بزرگ بننے کے لیےعلم حاصل کرو۔
  • جو آدمی خود کو عالم کہے وہ جاہل ہے۔
  • سب سے بری آوازیں دو ہیں :نوحہ اور راگ۔
  • توبہ کی تکلیف سے گناہ چھڑنا آسان ہے۔
  • حسن خلق نصف عقل ہے۔ حُسنِ سوال نصف علم ہے، اور حُسنِ تدبیر نصف معیشت ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں عمر بن خطاب.