ابوالحسن خرقانی

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

w:ابوالحسن خرقانی (پیدائش:963ء — وفات: 5 دسمبر 1033ء) دسویں اور گیارہویں صدی عیسوی کے مسلم صوفی تھے۔

اقوال[ترمیم]

  • دنیا میں اِس سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں کہ تمہاری کسی کے ساتھ دشمنی ہو۔
  • بے کاری اور سستی انسان کو ہلاک کردیتی ہے۔
  • نماز اور روزہ بڑی چیزیں ہیں مگر حسد اور غرور دل سے دور کرنا ان سے بہتر ہے۔
  • علم سے زیادہ مفید یہ ہے کہ تم اُس پر عمل کرو اور سب سے اچھا علم وہ ہے جو تم پر فرض ہے۔
  • اعلانیہ گناہ پوشیدہ کی نسبت زیادہ سخت اور اظہارِ گناہ دوسرا گناہ ہے۔
  • اللہ تعالیٰ کی دوستی اس شخص کے دل میں نہیں ہوتی جس کو خلق پر شفقت نہیں۔
  • ایک لمحہ کے واسطے اللہ تعالیٰ کا ہَو رہنا خلائق زمین و آسمان کے اعمال سے بہتر ہے۔
  • صدق یہ ہے کہ دل باتیں کرے یعنی وہ بات کہے جو دل میں ہو۔
  • عالم وہ ہے جسے اپنا علم ہو، نہ کہ وہ جو اور چیزوں کا علم رکھتا ہو۔
  • سب سے بہتر وہ دل ہے جو بدی اور شر سے خالی ہو۔
  • سب سے بہترین شے وہ دل ہے جو خدا کی یاد سے معمور ہو۔
  • صدق سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ دل میں ہو، وہی زبان پر جاری ہو۔
  • جس دل میں مخلوق نہ ہو وہ دلوں میں سب سے زیادہ روشن دل ہے۔
  • جس کام میں مخلوق کا اندیشہ نہ ہو، وہ کاموں میں سب سے اچھا کام ہے۔
  • جو نعمت بصد کوشش حاصل ہو، وہ نعمتوں میں سب سے زیادہ حلال ہے۔
  • ذِکر الٰہی سے دل کی کھیتی سرسبز رہتی ہے۔
  • لالچ انسان کو اندھا بنا دیتی ہے اور ذلت و خواری کے سمندر میں دھکیل کر ہی سانس لیتی ہے۔
  • جب تک تم دنیا کے طالب رہو گے، وہ تم پر غالب رہے گی۔ جب اِس سے منہ پھیر لو گے، وہ تمہارے ماتحت ہوجائے گی۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں ابوالحسن خرقانی.