احمد رضا خان

وکی اقتباسات سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
امام احمد رضا خان کا مزار

امام اجمد رضا خان احمد رضا خان 1272ھ -1865 میں پیدا ہوے۔امام احمد رضا خان شمالی بھارت کے شہر بریلی کے ایک مشہور عالمِ دین تھے جن کا تعلق فقہ حنفی سے تھا۔ امام احمد رضا خان کی وجہ شہرت میں اہم آپکی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں لکھے نعتیہ مجموعے اور آپ کے ہزارہا فتاوی کا ضخیم علمی مجموعہ جو 30 جلدوں پر مشتمل فتاوی رضویہ کے نام سے موسوم ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اہلسنت کی ایک بڑی تعداد آپ ہی کی نسبت سے بریلوی کہلاتے ہیں۔مولانا نے چار برس کی ننھی عمر میں قرآن مجید ناظرہ کیا اور چھ سال کی عمر میں منبر پر مجمع کے سامنے میلاد شریف پڑھا۔ اردو فارسی اور عربی پڑھنے کے بعد مولانا نے اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خان سے عربی زبان میں دین کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تیرہ برس دس مہینے کی عمر میں ایک عالم دین ہوگئے. 14 شعبان 1286ھ مطابق 19 نومبر 1869ء میں مولانا کو عالم دین کی سند دی گئی اور اسی دن والد نے مولانا کے علمی کمال اور پختگی کو دیکھ کر فتویٰ نویسی کی خدمت انکے سپرد کی. جسے مولانا نے 1340ھ مطابق 1921ء اپنی وفات کے وقت تک جاری رکھا.

نفسانی اور شیطانی خواہش میں فرق[ترمیم]

  • (گناہ کی خواہش سے متعلق گفتگو میں ارشاد فرمایا)اس قسم کی خواہش یا تو نفسانی ہو اکرتی ہے یا شیطانی ،جس کے دو امتیاز سَہل(یعنی آسان) ہیں، ایک یہ کہ شیطانی خواہش میں بہت جلد کا تقاضا ہوتا ہے کہ ابھی کرلواَلْعُجْلَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ،عجلت (یعنی جلدی)شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ۔

اور نفس کو ایسی جلدی نہیں ہوتی ، دوسری یہ کہ نفس اپنی خواہش پر جمار ہتا ہے جب تک پوری نہ ہو اُسے بدلتا نہیں ۔ اُسے واقعی اُسی شے کی خواہش ہے ۔ اگر شیطانی ہے تو ایک چیزکی خواہش ہوئی ،وہ نہ ملی، دوسری چیز کی ہوگئی ، وہ نہ ملی تیسری کی ہوگئی ،اس واسطے کہ اُس کا مقصد گمراہ کرنا ہے خواہ کسی طورپرہو ۔[1]

کیانفس اور رُوح میں فرق ہے؟[ترمیم]

  • عرض: حضور!نَفس اور رُوح میں فَرق اِعتباری معلو م ہوتا ہے؟

ارشاد: اصل میں تین چیزیں علیحدہ علیحدہ ہیں،نفس ۔۔۔رُوح۔۔۔قَلب۔۔۔رُوح بمنزلہ بادشاہ کے ہے۔۔۔ اورنَفس وقَلب اس کے دو وَزیرہیں۔نَفس اس کو ہمیشہ شَرّ کی طرف لے جاتا ہے اورقَلب جب تک صاف ہے خیر کی طرف بلاتا ہے اور مَعاذَ اﷲعَزَّوَجَل کثرتِ مَعَاصِی(یعنی گناہوں کی زیادتی)اور خصوصاً کثرتِ بِدْعَات سے اندھا کردیا جاتا ہے ۔ اب اُس میں حق کے دیکھنے،سمجھنے، غور کرنے کی قابِلیت نہیں رہتی، مگر اَبھی حق سننے کی اِسْتِعْدَاد (یعنی قابلیت)باقی رہتی ہے اور پھر مَعاذَ اﷲعَزَّوَجَل اَوندھا کردیا جاتا ہے اب وہ نہ حق سن سکتا ہے اور نہ دیکھ سکتا ہے، بالکل چَوپَٹ (یعنی ویران)ہو کر رہ جاتا ہے۔ [2]

گناہِ کبیرہ اور صغیرہ میں کیا فرق ہے[ترمیم]

  • عرض :گناہِ کبیرہ وصغیر ہ میں کیا فر ق ہے ؟

ارشاد :گناہِ کبیرہ سات سو ہیں ، اِ ن کی تفصیل بہت طویل ۔اللہ عَزَّوَجَل کی معصیت جس قدر ہے سب کبیرہ ہے ۔ اگر صغیرہ وکبیرہ کو علیحدہ شمار کرایا جائے تو لوگ صغائر (یعنی صغیرہ گناہوں)کو ہلکا سمجھیں گے، وہ کبیرہ سے بھی بد تر ہوجائے گا ،غرض جس گناہ کو ہلکا جان کر کریگا وہی کبیرہ ہے۔ اِن کے امتیاز کے لئے صرف اس قدر کافی ہے کہ: فرض کا ترک کبیرہ ہے اور واجب کا صغیرہ۔ جو گناہ بے باکی اور اِصرار سے کیا جائے کبیرہ ہے ۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں احمد رضا خان.


  1. ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی صفحہ 158
  2. ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی صفحہ 405
  3. ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی ص137


http://www.imamahmedraza.com/