امام غزالی

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

امام غزالی یا ابوحامد محمد بن محمد الغزالی (پیدائش: 1058ء – وفات: 19 دسمبر 1111ء) گیارہویں و بارہویں صدی عیسوی کے مسلمان فلسفی، متکلم، محدث، فقیہ اور عالم تھے۔

اقوال[ترمیم]

  • ہر چیز کو اُس کی ضد سے ہی توڑا جا سکتا ہے۔
  • ہر کام کی ابتدا آنکھ سے ہی ہوتی ہے۔
  • آدمی کی نیک بختی کا راز معرفتِ الٰہی میں مضمر ہے۔
  • مال کی محبت دور اِسی طرح ہوسکتی ہے کہ اُسے اپنے سے علیحدہ کردیا جائے۔
  • بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی چیز پر قادر ہونے کے باعث کوئی شخص واقعی اپنے آپ کو اُس سے محفوظ رکھ سکے۔
  • جس چیز کی معرفت حاصل ہوجائے، وہ چیز جس قدر عظیم اور افضل تر ہوگی، اُتنی ہی لذت بھی زیادہ حاصل ہوگی۔
  • عذاب کے اسباب ہر شخص خود اِسی دنیا سے اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور وہ یہیں پر اُس کے اندر موجود ہوتے ہیں۔
  • ایثار کا درجہ سخاوت سے بھی بلند تر ہے، کیونکہ سخی وہ ہے جو اُس چیز کو دوسرے کے حوالے کردیتا ہے جس کی اُسے خود ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن صاحبِ اِیثار کی شان یہ ہے کہ اُس چیز کو دوسرے کے حوالے کردیتا ہے جس کی اُسے خود ضرورت ہوتی ہے۔
  • دنیا کی بے شمار شاخیں ہیں اور اِنہی شاخوں میں ایک شاخ مال و نعمت کے نام سے موسوم ہے۔ اِسی طرح ایک اور شاخ جاہ و حشمت کہلاتی ہے اور ایسی بہت سی دوسری شاخیں ہیں، لیکن فتنہ ٔ مال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں۔
  • جب انسان گناہ کا اِرتکاب کرتا ہے تو اُس سے اُس کی پاکیزہ اور معصوم فطرت متاثر ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ گناہوں سے اُس کی نفرت، اُن سے اُنس میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ لیکن جب کوئی شخص بڑے بڑے گناہوں سے بچنے کا پختہ اِرادہ کرلیتا ہے اور ساری آلائشوں بلکہ اِشتعال انگیزیوں کے باوجود اپنا دامن بچانے کی سعی کرتا ہے تو اِس کشمکش سے اُس کے دِل کے آئینہ سے زنگار دور ہونے لگتا ہے۔
  • علم کی ایک ہی قسم نہیں ہے اور نہ ہی ہر قسم ہر ایک کے حق میں یکساں ہے، بلکہ احوال و وَاقعات کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔ لیکن کسی نہ کسی جنس علم کی حاجت ہر کسی کو بہرحال ہوتی ہے۔
  • دنیا میں دوستی کو برباد کرنے کے لیے اِس سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہوتی کہ دوست کے ساتھ بات بات پر اِختلاف کا اِظہار کرتے رہیں اور مناظرہ کرنے لگیں۔
  • تمام آفتیں آنکھ سے ہی پیدا ہوتی ہیں اور اُن کا ظہور گھر کے اندر سے نہیں ہوتا بلکہ یہی در و بام، کھڑکیاں، دریچے اور روزن اِس کے ذمے دار ہوتے ہیں۔
  • جس شخص کو دنیا کی تجارت اپنے اندر یوں مستغرق کرلے کہ اُسے آخرت کی تجارت یاد ہی نہ رہے، تو وہ یقیناً بڑا بدبخت ہے۔
  • کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کی خاطر دوستی یا بھائی چارہ قائم کرنا بہت بڑی عبادتوں اور مقاماتِ بلند میں شامل ہے جو راہِ دِین میں میسر آسکتے ہیں۔
  • دنیا میں دوستی کو برباد کرنے کے لیے اِس سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہوتی کہ دوست کے ساتھ بات بات پر اِختلاف کا اِظہار کرتے رہیں اور مناظرہ کرنے لگیں۔

امام غزالی کے متعلق شخصیات کی آراء[ترمیم]

  • غزالی سے بغض رکھنے والا یا تو حاسد ہوگا یا زندیق۔

مزید پڑھیں[ترمیم]

  • قاضی سلیمان منصورپوری: تاریخ المشاہیر، مطبوعہ لاہور۔
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں امام غزالی.