اوسوالڈ اسپینگلر

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

w:اوسوالڈ اسپینگلر (پیدائش: 29 مئی 1880ء— وفات: 8 مئی 1936ء) جرمن فلسفی، مؤرخ اور سیاسی محقق و مصنف تھے۔

اقوال[ترمیم]

  • تاریخ کے ایک آزاد پیکر کی خاکہ کشی کی ضرورت ہے تاکہ شخصیات کے اثرات سے نجات حاصل کی جاسکے۔ ایسی شخصیات جو اپنی ثقافت میں مذہبی، ذہنی اور سیاسی اور معاشرتی رجحانات کے زیر اثر تاریخی مواد کو ذاتی نقطہ نظر سے منظم کرلیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ثقافت کا زمان و مکان کی حدود و قیود سے آزاد ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔
    • زوال مغرب، صفحہ 65۔
  • مقصدیت کا عصبیت سے آزادی حاصل کرنا اور ماہر طبیعیات کا آزادانہ نقطہ نظر سے علت و معلول کی میکانیت معلوم کرنا تاریخ کو ذاتیات کے حصار سے باہر نکال دیتا ہے۔
  • زوال مغرب، صفحہ 65۔
  • تاریخ عالم ثقافتوں کی اِجتماعی سوانح عمری ہے۔ کلاسیکی یا چینی ثقافت کی تاریخ کسی فردِ واحد کی سوانح سے مختلف نہیں۔ اِس کی داخلی صورتوں کا عرفان حاصل کرنے کے لیے نباتات اور حیوانات کی صوریاتی تشکیل کو جاننا ہوگا۔ متعدد ثقافتیں معراجِ کمال تک پہنچتی اور ایک دوسرے پر سبقت لے جاتی رہی ہیں۔ اِس طرح انسانی تاریخ دب کر رہ گئی ہے۔ اگر ہم اِن ثقافتوں کو اِس دباؤ سے آزاد کروائیں تو اِن کی الگ الگ نشاندہی کی جاسکتی ہے۔
  • زوال مغرب، صفحہ 75۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں اوسوالڈ اسپینگلر.