اکبر الہ آبادی

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

اکبر حسین الہٰ آبادی (پیدائش: 16 نومبر 1846ء – وفات: 9 ستمبر 1921ء) اردو زبان کے نامور و ممتاز ترین شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔ اُنہیں اُردو زبان کا مزاح نگار شاعر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

اقتباسات[ترمیم]

غزل[ترمیم]

  • دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
    بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
    زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی
    ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں
    اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث
    سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں
    افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت
    غم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں
    وہ گل ہوں خزاں نے جسے برباد کیا ہے
    الجھوں کسی دامن سے میں وہ خار نہیں ہوں
    یا رب مجھے محفوظ رکھ اس بت کے ستم سے
    میں اس کی عنایت کا طلب گار نہیں ہوں
    گو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا میں
    بت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں
    افسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔ
    کافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں

شاعری[ترمیم]

  • کیا پا گئے جو حرص کے کُوچے میں سگ رہے
    وہ کیا بُرے رہے کہ جو اِس سے الگ رہے
    اپنی جگہ سے تم نہ ہٹو گو ہَوں گردشیں
    ایسے رہو کہ جیسے انگوٹھی میں نگ رہے
    اکبرؔ اُنہی کو لذتِ یادِ خدا ملی
    سمجھے جو کافری کو اور اُس سے الگ رہے
    • کلیاتِ اکبر، ج 2، ص60۔

رباعیات[ترمیم]

  • غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا
    افعالِ مضر سے کچھ نہ کرنا اچھا
    اکبرؔ نے سنا ہے اہل غیرت سے یہی
    جینا ذِلت سے ہو تو مرنا اچھا
    • کلیات اکبر الہٰ آبادی، ص324
  • ہو علم اگر نصیب تعلیم بھی کر
    دولت جو ملے تو اُس کی تقسیم بھی کر
    اللہ عطاء کرے جو عظمت تجھ کو
    جو اہل ہیں اِس کے اُن کی تعظیم بھی کر
    • کلیات اکبر الہٰ آبادی، ص332

مزید دیکھیں[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں اکبر الہ آبادی.