باغ و بہار

وکی اقتباسات سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

باغ و بہار، 1802ء میں اردو زبان کی پہلی چھپنے والی کتاب ہے۔ اس پر جان گلگرسٹ نے مقدمہ لکھا۔

اقتباسات[ترمیم]

مقدمہ میر امن دہلوی[ترمیم]

  • سبحان اللہ، کیا صانع ہے کہ جس نے ایک مٹھی خاک سے کیا کیا صورتیں اور مٹی کی مورتیں پیدا کیں باوجود رنگ کے ایک گورا اور ایک کالا۔ اور یہی ناک، کان، ہاتھ پاؤں سب کو دیئے ہیں۔ تس پر، رنگ بہ رنگ کی شکلیں جدی، جدی بنائیں کہ ایک کی سج دھج سے دوسرے کا ڈیل ڈول ملتا نہیں۔ کروڑوں خلقت میں جس کو چاہیئے، پہچان لیجئے۔ آسمان اس کے دریائے وحدت کا ایک بلبلا ہے اور زمین پانی کا بتاشا، لیکن یہ تماشا ہے کہ سمندر ہزاروں لہریں مارتا ہے پر اس کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔ جسکی یہ قدرت اور سکت ہو اسکی حمد و ثنا میں زبان انسان کی گویا گونگی ہے، کہیے تو کیا کہیے، بہتر یوں ہے کہ جس بات میں دم نہ مار سکے، چپکا ہو رہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں باغ و بہار.



مزید دیکھیے[ترمیم]