بانو قدسیہ

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

بانو قدسیہ (پیدائش: 28 نومبر 1928ء — وفات: 4 فروری 2017ء) اردو زبان کی شہرت یافتہ ادیبہ، مصنفہ تھیں۔

اقوال[ترمیم]

اقتباسات[ترمیم]

کرنیل کور

  • کرنیل کور کے ہونٹ بغیر ہلے کہہ رہے تھے "یا رسول اللہ تیرے درپہ آئے ہوئے لوگوں کے لیے تیرے پیاروں نے دروازے کیوں بند کررکھے ہیں- مجھے اس بات کا رنج نہیں کہ سوڈھی سرداروں کی لڑکی تیلی سےبیاہی جارہی ہےمیں توپوچھتی ہوں کتنے سوبرسوں میں ایک نومسلم مسلمان ہوجاتا ہے - کلمہ پڑھنے کے بعد مسلمان کہلانے کے لیے کتنے برسوں کی کھٹالی میں رہنا پڑتاہے"

[1]

  • بڑا اِنسان وہی ہوتا ہے جو دوسروں کے سارے تضاد، اُن کی طبیعتوں کا فرق، حالات، خیالات سارے رنگوں کو خوش دلی سے قبول کرے۔ مسلک مختلف ہو تو اپنا مسلک چھوڑے بِنا دوسرے کے اعتقادات کی تعظیم کرتا رہے۔ کلچر مختلف ہو تو اعتراضات کیے بغیر دوسرے کے کلچر کو بھی اچھا سمجھتا رہے، رنگ، نسل، طبقاتی اُونچ نیچ، لباس، زبان غرضیکہ زیادہ سے زیادہ تضاد اور فرق کو زِندگی کا حصہ اور اِنسان کو اِنسان سے ممیّز کرنے کی سہولت سمجھ لے۔ اِن امتیازات کی وجہ سے نفرت کا شکار نہ ہو۔
    • مرد ابریشم

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں بانو قدسیہ.


  1. کتنے سال ---- کتنے سوسال ؟ ،(بانوقدسیہ کے افسانے "کتنے سوسال"سے اقتباس)