بہادر شاہ ظفر

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

w:بہادر شاہ ظفر (پیدائش: 24 اکتوبر 1775ء — وفات: 7 نومبر 1862ء) مغلیہ سلطنت کے آخری شہنشاہ تھے جنہوں نے 28 ستمبر 1837ء سے 14 ستمبر 1857ء تک بحیثیت مغل شہنشاہ حکومت کی۔ اُن کی حکومت محض دہلی تک باقی رہ گئی تھی۔ 14 ستمبر 1857ء کو جنگ آزادی کے بدلے میں انگریزوں نے اُنہیں معزول کردیا اور ایک عدالتی کارروائی کے نتیجے میں اُنہیں رنگون جلاوطن کردیا گیا جہاں اُنہوں نے اپنی زندگی کے آخری سال گزارے اور 7 نومبر 1862ء کو حالت کسمپرسی میں رنگون میں انتقال ہوا۔

اقوال[ترمیم]

اشعار[ترمیم]

  • زیوں میں بو رہے گی جب تلک ایمان کی
    تخت لندن تک چلے گی تیغ ہندو ستان کی
  • کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دل
    وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے
  • کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
    اِتنی جگہ کہاں ہے دِلِ داغدار میں
  • کتنا ہے بدنصیب ظفر ؔ دفن کے لیے
    دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
  • نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہُنر
    پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
  • دولتِ دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھ
    بعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی

غزل[ترمیم]

  • لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں
    کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
    بُلبُل کو باغباں سے نہ صَیَّاد سے گلہ
    قسمت میں قید لکّہی تھی فصلِ بہار میں
    کہہ دو اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
    اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں
    ایک شاخ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادمان
    کانٹے بچھا دیے ہیں دل لالہ زار میں
    عُمْرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
    دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
    دِن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
    پھیلا کے پاؤں سوئیں گے کُنجِ مزار میں
    کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
    دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

غزل[ترمیم]

  • بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
    جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
    لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
    بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی
    اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو
    کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی
    عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا
    تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی
    اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف
    سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی
    پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں
    آتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی
    نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل
    وہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی
    چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن
    جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی
    کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفرؔ سے ہر بار
    خو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی

اقتباسات[ترمیم]

مزید دیکھیں[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں بہادر شاہ ظفر.