داستان امیر حمزہ

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

داستان امیر حمزہ ایک بہادر شخص حمزہ بن ازرک کی فرضیہ داستان ہے یہ پرانے اردو داستانوں میں مشہور ترین ہے اس کا تعلق مغل بادشاہ اکبر سے ہے جو داستان سننے کا رسیا تھا۔

اقتباسات[ترمیم]

راویانِ روایاتِ شیریں اور حاکیانِ حکایاتِ دل نشین، اس افسانے کو یوں حکایت کرتے ہیں کہ سرزمینِ ایران کے شہر مدائن میں ایک بادشاہ تھا، قبادکامران نام، کام دہِ مستمدانِ ناکام رعیت پروری میں اپنا نظیر اور عدالت گستری میں عدیل نہ رکھتا تھا۔ ملک میں اس کے محتاج و فقیر مثلِ عنقا بے نشاں اور زبردست اور زیردست یکساں تھے۔ چھوٹا بڑا بایکدیگر دل جوئی کرتا اور ایک دوسرے پر احسان دھرتا تھا۔ دن رات دروازے گھروں کے مثل چشمِ پاسبان کھلے رہتے تھے، کہ چور حنا تک کا آسیاے عدالت میں پیسا جاتا تھا۔ چور چوری سے بھی نام چوری کا زبان پر نہ لاتا تھا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں داستان امیر حمزہ.