سکندر اعظم

وکی اقتباسات سے
Jump to navigation Jump to search

سکندر اعظم، سکندر 350 سے 10 جون 323 قبل مسیح تک مقدونیہ کا حکمران رہا۔ اس نے ارسطو جیسے استاد کی صحبت پائی۔ کم عمری ہی میں یونان کی شہری ریاستوں کے ساتھ مصر اور فارس تک فتح کرلیا۔ کئی اور سلطنتیں بھی اس نے فتح کیں جس کے بعد اس کی حکمرانی یونان سے لیکر ہندوستان کی سرحدوں تک پھیل گئ۔[1]

اقوال[ترمیم]

  • سکندر اعظم نے ایران کے بادشاہ دارا کو شکست دے کر اس کے وزراء اور خدمت گاروں کو قتل کروا دیا۔
  • سکندر کو بتایا گیا کہ دارا کی بیٹی نہایت حسین و جمیل ہے اور اس کے علاوہ۔
  • اس کے شاہی حرم اور شاہی خاندان کی بے شمار دوشیزائیں حسن و جمال میں اپنی۔
  • نظیر نہیں‌ رکھتیں۔ لہذا سکندر کو محل سرا کی سیر کرکے ان کی دید سے لطف۔
  • اندوز ہونا چاہیے۔ خصوصا شہزادی کا حسن تو بے مثال ہے اور توجہ کے قابل ہے۔
  • لوگوں کا خیال تھا کہ سکندر شہزادی کو دیکھے گا تو عین ممکن ہے اس کی۔
  • خوبصورتی سے متاثر ہو کر اسے ملکہ بنا لے مگر سکندر نے جواب دیا۔
  • ہم دارا کے شہہ زور مردوں کو شکست دے چکے ہیں۔ اب ہم یہ نہیں چاہتے کہ اس کی کمزور عورتیں ہمیں زیر کر لیں

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں سکندر اعظم.