شیخ عبدالقادر جیلانی
شیخ عبدالقادر جیلانی یا محی الدین ابومحمد بن ابوالصالح عبدالقادر الجیلانی الحسنی والحسینی (پیدائش: 17 مارچ 1078ء – وفات: 21 فروری 1166ء) فقہ حنبلی کے جلیل المرتبت عالم، محدث، فقیہ، محقق و مصنف اور سلسلہ قادریہ کے مؤسس تھے۔
اقتباسات
[ترمیم]- فقیر صابر، شاکر غنی سے بہتر ہے اور فقیر شاکر دونوں سے بہتر۔ فقیر صابر و شاکر سب سے افضل ہے۔
- مطالعہ حق اور استصغارِ نفس کے بعد تجھے خلقِ خدا کے جور و جفا کا احساس نہ ہو، تو اُسے حُسنِ خلق کہتے ہیں۔
- ذاکر مُحِب ہے اور ذِکر الٰہی پر دِل لگانے والا محبوب، دنیا تیرے لیے حجاب ہے اور تیرا نفس اللہ کے لیے حجاب ہے۔
- اِتباع کرنا سیکھو۔ بدعت کے کام مت نکالو۔ اِطاعت کیا کرو، الگ راہ اِختیار نہ کرو۔ گناہوں سے طہارت حاصل کرو، اِن میں آلودہ نہ ہوا کرو۔ اپنے مالک کے آستانے پر ڈٹے رہو اور صبر رکھو۔ بے صبری سے بچو اور ثابت قدم رہو۔ تفرقہ سے بچو اور رحمتِ الٰہی سے مایوس نہ ہو۔ ذِکر الٰہی کے لیے اکٹھے ہوجایا کرو اور فرقہ نہ بنو۔
- تاریخ المشاہیر، صفحہ 129۔
- جب بھی میرے دل میں دوسرے بچوں کے ساتھ جا کر کھیلنے کی خواہش پیدا ہوتی، تو میں ایک آواز سنتا جو کہتی: ‘اے مبارک روح! میرے پاس آؤ، میرے ہی پاس آؤ۔’ خوف کے عالم میں میں اپنی ماں کی آغوش میں پناہ ڈھونڈنے چلا جاتا۔ اب، اپنی نہایت گہری اور طویل عبادتوں میں بھی، میں وہ آواز پہلے کی طرح واضح طور پر نہیں سن پاتا۔
- آپ ﷺ تمام جلیل القدر صفات سے آراستہ کیے گئے تھے، اور آپ کو تمام کلمات عطا کیے گئے تھے۔ آپ کی بلند فطرت کے باعث پوری کائنات کے خیمے کے ستون مضبوطی سے قائم ہیں۔ آپ فرشتۂ وحی کی کتاب کے کلام کا راز ہیں، اور “دنیا اور آسمانوں کی تخلیق” کے حروف کے حقیقی معنی ہیں۔ آپ اُس لکھنے والے کے قلم ہیں جس نے مخلوقات کے ارتقا اور نشوونما کو رقم فرمایا۔ آپ کائنات کی آنکھ کی پتلی ہیں، اور وہ استاد ہیں جس نے وجود پر اپنی مہر ثبت کی۔
آپ وحی کے سرچشمے سے فیض پانے والے ہیں اور ازلی راز کے امین ہیں۔ آپ ازلیت کی زبان کے ترجمان ہیں۔ آپ عزت کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں اور حمد و ثنا کی باگیں اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ آپ نبوت کے ہار کا مرکزی موتی ہیں اور تمام رسولوں کے تاج کا درخشاں جواہر ہیں۔ سبب کے اعتبار سے آپ اولین ہیں، اور ظاہری وجود کے اعتبار سے آخرین۔
آپ کو عظیم ترین ناموس (جبریلِ امینؑ) کے ساتھ بھیجا گیا تاکہ غم کے پردے چاک کریں، دشواریوں کو آسان بنائیں، دلوں کے فتنوں کو دور کریں، روح کی اداسی کو تسکین دیں، نفوس کے آئینوں کو جِلا بخشیں، دلوں کی تاریکی کو منور کریں، باطن کے محتاجوں کو غنی کریں، اور روحوں کی زنجیروں کو کھول دیں-
- اینماری شمل (Annemarie Schimmel) نے اپنی کتاب And Muhammad is His Messenger: The Veneration of the Prophet in Islamic Piety (1985، یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا پریس، ص 135) میں نقل کیا ہے- ISBN 0-8078-1639-6
مزید پڑھیں
[ترمیم]- قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری: تاریخ المشاہیر، مطبوعہ لاہور۔
