قاضی نذر الاسلام
ظاہری ہیئت

قاضی نذر الاسلام (پیدائش: 25 مئی 1899ء – وفات: 29 اگست 1976ء) بنگلہ دیش کے قومی شاعر، انگریز سامراج مخالف رہنما، موسیقار اور مصنف تھے۔
اقتباسات
[ترمیم]شاعری
[ترمیم]نظم ’’ تم کون ہو؟‘‘
[ترمیم]- تم کون ہو اے دوست جو یوں کرتے ہو نظروں سے اِشارے
پھر بند بھی سب مجھ پہ ہیں دروازے شبستاں کے تمہارے
لا لا کے ہوا چیت کی دیتی ہے پر اَسرار سندیسے
باغوں میں چہکتی ہیں جہاں کوئلیں شاخوں کے سہارے
بیساکھ میں پھر فاختہ آتی ہے تری بن کے پیامی
کیا کیا مجھے للکارتے ہیں ندی کے بپھرے ہوئے دھارے
پت چھڑ میں جھلکتے ہیں سرِ شاخ تری پلکوں کے آنسو
اونگھا کبھی جھاڑے میں تو اُٹھلا کے ٹھہوکے مجھے مارے
اور پوس میں تنہا تو بھٹکتا ہے مری یاد میں اکثر
ہم کرتے ہیں اِک بحرِ جدائی کے کناروں سے اِشارے
اے شاعرِ وارفتہ ہم آغوشِ نسیم و نفسِ گُل ہو بہ صد شوق
کرنے ہوں اگر دوست کے کاشانۂ رنگیں کے نظارے- ماہنامہ ماہِ نَو، اپریل 1957ء، صفحہ 42۔
ایک مناجات
[ترمیم]- یا خدا!
- اسلام کو استقامت دو
- مسلم دنیا کو خوشحالی کے راستے پر چلنے دو
- اسے اس کی پرانی سلطنت اس کی پرانی سطوت اور فیاض روح واپس بخش دو
- اسے شجاع علی کی تیز دھار ذوالفقار دوبارہ عطا کر دو اسے اس کے پرانے خلفاء اور حشمت اور پرانے با عظمت مدینہ اور بغدا دواپس کر دو
- ان کے لئے عظیم حمزہ اور ولید بھیجو
- اس کا عمر اور اس کا ہارون الرشید اسے واپس کرو اسے عالی مرتبت صلاح الدین دوبارہ عطا عطا کرو کرو ایک بار پھر اس گناہ آلود دنیا کے خلاف جہاد کا طبل بجانے :دو اسلام کو رومی ، سعدی اور حافظ پھر سے دے دو
- خیام اور تبریز عطا کرو
- اکبر اور شاہجہاں واپس لاؤ
- پھر اسے سنگ مرمر میں اس کے روشن خواب دے دو
- اس میں اتحاد اور یگانگت کا فہم
- ذاتی قربانی اور شجاعت کا جذ بہ بیدار کرو پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرودو اس کے ہلالی پرچم کو آسمانوں پر پھر سے لہرانے دو
- ترجمه: علی مظہر اشعر
- ایک مناجات[1]
جهان نو
[ترمیم]- جهان نو
- قید خانے میں تمام بھوک ہڑتا لیوں کو جگاؤ تمام مجبوروں اور محروموں کو اٹھاؤ ایک نیا عظیم الشان جہان پیدا ہورہا ہے ساتھی ! آج دیکھو کس طرح مصیبت زدہ انسا :نیت ہر جبریت پر نعرہ زن ہے اور زور و شور سے چلا رہی ہے ایک دلیر نیا جہان باہر آ رہا ہے اب بیہودہ تو ہمات کی پرانی بیڑیاں ٹوٹ جائیں گی
- آج وہ بلند جیلیں تو ڑ ڈالیں گے
- آن و روش های طرح امیں محنت غریب اور مصیبت زدہ
- اب اور کسی کے غلام نہیں رہیں گے
- ایک نئی مضبوط بنیاد پر
- ہم دنیا کی ایک عظیم قوم کی تعمیر کریں گے
- نا انصافی اور دکھ سے آزاد
- سنو! اے جابر اور امیر ! کل کے بے مایہ کل کے فاتح ہوں گے اور ساتھی ! آخری جنگ میں حق کے لئے
- اٹھ کھڑے ہو!
- جهان نو! ترجمه: علی مظہر اشعر
آ جا دیکھ امی آمنہ کی گود میں
[ترمیم]- آ جا دیکھ امی آمنہ کی گود میں
- بھری چاندنی کا وہاں چاند ڈولے
- جیسے سحر کی گود میں (رنگا) سورج ڈولے
- آ جا دیکھ امی آمنہ کی گود میں
مزید دیکھیں
[ترمیم]- ماہنامہ ماہِ نَو، اپریل 1957ء، کراچی، نظم ’’ تم کون ہو؟‘‘، مترجم:ابتسام الدین۔
| ویکیمیڈیا کومنز میں قاضی نذر الاسلام سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
