مرزا غلام احمد

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

مرزا غلام احمد (13 فروری 1835ء تا 26 مئی 1908ء) ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما اور احمدیہ کے بانی تھے۔ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ وہ ہی مسیح موعود اور مہدی آخر الزمان ہے اور نبی ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ 1888ء میں، احمد نے اعلان کیا کہ انہیں بیعت لے کر ایک جماعت بنانے کا حکم ملا ہے اور اس طرح 23 مارچ 1889ء کو لدھیانہ میں پہلی بیعت لے کر جماعت احمدیہ جسے قادیانیت اور مرزائیت بھی کہا جاتا ہے، کی بنیاد رکھی۔

اقتباسات[ترمیم]

  • زمین کے لوگ خیال کرتے ہوں گے کے ساید انجام کار عیسائی مزہب دنیا میں پھیل جاۓ یا بدھ مذہب تمام دنیا پر حاوی ہو جائے مگر وہ اس خیال سے غلطی پر ہیں۔ یاد رہے کہ زمین پر کوئی بات ظہور میں نہیں آتی جب تک وہ آسمان پر قرار نہ پائے۔ سو آسمان کا خدا مجھے بتلاتا ہے آخرکار اسلام کا مزہب دلوں کو فتح کرے گا۔
  • وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک ماجرا گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دِنوں میں زندہ ہو گئے۔ اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے۔ اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے۔ اور گنگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کے نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا۔ اور نہ کسی کان نے سنا۔۔۔۔۔۔کچھ جانتے ہو کے وہ کیا تھا؟۔۔۔۔۔۔وہ ایک فانی فی اللّٰہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا۔ اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کے جو اُس اممّی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔
  • عزیزو ! یہ دین کے لئے اور دین کی اغراض کے لئے خدمت کا وقت ہے اس وقت کو غنیمت سمجھو کہ پھر کبھی ہاتھ نہیں اۓگا۔
    • کشتی نوح، روحانی خزائن، جلد ١٩، صفحہ ٨٢-٨٥

مزید دیکھیے[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں مرزا غلام احمد.