واصف علی واصف

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search
اُس چیز کا ذِکر نہ کرو، جس کو دیکھا نہیں اور اُس کا بھی کیا تذکرہ جو کسی کو دِکھلائی نہ جاسکے۔

واصف علی واصف (پیدائش: 15 جنوری 1929ء — وفات: 18 جنوری 1993ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، کالم نگاراورمسلم صوفی تھے۔

اقتباسات[ترمیم]

محبت[ترمیم]

  • محبت کی تعریف مشکل ہے. اس پر کتابیں لکھی گئی. افسانے رقم ہوے. شعرا نے محبت کے قصیدے لکھے. مرثیے لکھے. محبت کی کیفیت کا ذکر ہوا. وضاحتیں ہوئیں. لیکن محبت کی جامع تعریف نہ ہو سکی. واقعہ کچھ اور ہے روایت کچھ اور. بات صرف اتنی سی ہے کہ جب ایک چہرہ انسان کی نظر میں آتا ہے تو اسکا انداز بدل جاتا ہے. کائنات بدلی بدلی سی لگتی ہے. بلکہ ظاہر و باطن کا جہاں بدل جاتا ہے. محبت سے آشنا ہونے والا انسان ہر طرف حسن ہے حسن دیکھتا ہے. اسکی زندگی نثر سے نکل کر شعر میں داخل ہو جاتی ہے. اندیشہء سود و زیاں سے نکل کر انسان جلوہ جاناں میں گم ہو جاتا ہے. اسکی تنہائی میں میلے ہوتے ہیں. وہ ہنستا ہے بے سبب ، روتا ہے بے جواز. محبت کی کیفیت جلوہ محبت کے سوا کچھ نہیں. محب کو محبوب میں کجی یا خامی نظر نہیں آتی. اگر نظر آئے بھی تو محسوس نہیں ہوتی. محسوس ہو بھی تو ناگوار نہیں گزرتی. محبوب کی ہر ادا دلبری ہے. یہاں تک کہ اسکا ستم بھی کرم ہے. اسکی وفا بھی پر لطف اور جفا بھی پر کشش. محبوب کی جفا کسی محب کو ترک وفا پر مجبور نہیں کرتی. دراصل وفا ہوتی ہی بے وفا کے لئے ہے. محبوب کی راہ میں انسان مجبوری یا معذوری کا اظہار نہیں کرتا . یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجاز کیا ہے اور حقیقت کیا. دراصل مجاز بذات خود ایک حقیقت ہے. اور یہ حقیقت اس وقت تک مجاز ہے جب تک رقیب ناگوار ہو. جس محبت میں رقیب قریب اور ہم سفر ہو، وہ عشق حقیقی ہے. اپنا عشق اپنے محبوب تک ہی محدود رکھا جائے تو مجاز، اور اگر اپنی محبت میں کائنات شریک کرنے کی خواہش ہو تو حقیقت۔
  • انسان پریشان اُس وقت ہوتا ہے جب اُس کے دِل میں کسی بڑے مقصد کے حصول کی خواہش ہو، لیکن اُس کے مطابق صلاحیت نہ ہو۔ سکون کے لیے ضروری ہے کہ یا تو خواہش کم کی جائے یا صلاحیت بڑھائی جائے۔ ہر خواہش کے حصول کے لیے ایک عمل ہے۔ عمل نہ ہو تو خواہش ایک خواب ہے۔ ہم جیسی عاقبت چاہتے ہیں، ویسا عمل کرنا چاہیے۔ کامیابی، محنت والوں کے لیے، جنت ایمان والوں کے لیے اور عید روز داروں کے لیے۔

اقوال[ترمیم]

  • دور سے آنے والی آواز بھی اندھیرے میں روشنی کا کام دیتی ہے۔
  • ہوسِ زَر اور لذتِ وجود چھوڑ دی جائے، تو زندگی آسان ہوجاتی ہے۔
  • خوش نصیب انسان وہ ہے، جو اپنے نصیب پر خوش رہے۔
  • بدی کی تلاش ہو تو اپنے اندر جھانکو، نیکی کی تمنا ہو تو دوسروں میں ڈھونڈو۔
  • ظاہر کی روشنی کی تلاش، آنکھ کی بینائی سے ہے اور باطن کے نور کی تلاش، قلبِ منور سے اور صادق کی پہچان اپنی صداقت سے۔
  • آپ کی اپنی تسلیم ہی کا نام اللہ ہے۔ باہر کی دنیا میں اللہ کے لاکھ مظاہر ہوں، آپ سے آپ کے اللہ کا تعلق اُتنا ہے جتنا کہ وہ آپ کی تسلیم و رَضا میں ہے۔
  • سب سے زیادہ بدقسمت انسان وہ ہے جو حد درجہ غریب ہو اور خدا پر یقین نہ رکھتا ہو۔
  • خیال بدل سکتا ہے لیکن اَمر نہیں ٹل سکتا۔
  • توبہ منظور ہوجائے تو وہ گناہ کبھی سَرزد نہیں ہوتا اور نہ اُس گناہ کی یاد باقی رہتی ہے۔
  • جس سفر کا انجام کامیابی ہے، اُس سارے سفر کو ہی کامیابی کہنا چاہیے۔
  • انسانی حد بندیاں اور پیش بندیاں، فطرت کے کام میں رکاوٹ نہیں پیدا کرسکتیں۔
  • اُس چیز کا ذِکر نہ کرو، جس کو دیکھا نہیں اور اُس کا بھی کیا تذکرہ جو کسی کو دِکھلائی نہ جاسکے۔
  • آسمانوں پر نگاہ ضرور رکھو، لیکن یہ نہ بھولو کہ پاؤں زمین پر ہی رکھے جاتے ہیں۔
  • دو انسانوں کے مابین ایسے الفاظ۔۔۔ جو سننے والا سمجھے کہ سچ ہے اور کہنے والا جانتا ہو کہ جھوٹ ہے۔۔۔ خوشامد کہلاتے ہیں۔
  • جب تک آنکھ میں آنسو ہیں، انسان خدا کا تصور ترک نہیں کرسکتا۔
  • انسان کا دِل توڑنے والا شخص اللہ کی تلاش نہیں کرسکتا۔
  • انسان جتنی محنت خامی چھپانے میں صرف کرتا ہے، اُتنی محنت میں خامی دور کی جاسکتی ہے۔
  • دوسروں کی خامی، آپ کی خوبی نہیں بن سکتی۔
  • حیات فی نفسہٖ، مقصدِ حیات نہیں۔ مقصدِ حیات تو حیاتِ جاوداں ہے۔
  • اگر آرزو ہی غلط ہو تو حسرتِ آرزو، تکمیل آرزو سے بہت بہتر ہے۔
  • نعمت کا شکر یہ ہے کہ اُسے اُن کی خدمت میں صَرف کیا جائے، جن کے پاس وہ نعمت نہیں۔
  • وہ انسان جھوٹا ہے جو حق گوئی کے موقع پر خاموش رہے یا ایسی بات کہے جس سے اِبہام پیدا ہو۔
  • قربِ جمال، انسان کا حال اور خیال بدل کے رکھ دیتا ہے۔
  • اچھے لوگوں کا ملنا ہی اچھے مستقبل کی ضمانت ہے۔
  • بہترین کلام وہی ہے جس میں الفاظ کم اور معنی زیادہ ہوں۔
  • جس خطرے کا وقت سے پہلے احساس ہوجائے، سمجھو کہ وہ ٹل سکتا ہے۔
  • زندگی کی کامیابی کا فیصلہ، زندگی کے اختتام پر ہی ہوسکتا ہے۔
  • جو انسان حال پر مطمئن نہیں، وہ مستقبل پر بھی مطمئن نہ ہوگا۔ اطمینان حالات کا نام نہیں، یہ روح کی ایک حالت کا نام ہے۔ مطمئن آدمی نہ شکایت کرتا ہے، نہ تقاضا۔
  • اللہ سے وہ چیز مانگیں جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے وقت دِقت نہ ہو۔ اللہ سے مانگی ہوئی نعمت اللہ کے لیے وقف ہی رہنے دیں، چاہے وہ زندگی ہی کیوں نہ ہو۔
  • اللہ کی رحمت سے انسان اُس وقت مایوس ہوتا ہے جب وہ اپنے مستقبل سے مایوس ہو۔
  • اہل ظاہر کے لیے جو مقام، مقامِ صبر ہے، اہل باطن کے لیے وہی مقام، مقامِ شکر ہے۔
  • کسی ایک مقصد کے حصول کا نام کامیابی نہیں۔ کامیابی اُس مقصد کے حصول کا نام ہے جس کے علاوہ یا جس کے بعد کوئی اور مقصد نہ ہو۔
  • علم اُتنا حاصل کریں کہ اپنی زندگی میں کام آئے۔ علم وہی ہے جو عمل میں آسکے، ورنہ ایک اِضافی بوجھ ہے۔
  • اگر محنت میں لطف نہیں تو نتیجے کا انتظار تکلف ہے۔
  • حقیقت آئینے کے عکس کی طرح ہے۔ آپ قریب ہوجاؤ، وہ قریب ہوجاتا ہے۔ آپ دور ہوجاؤ، وہ دور ہوجاتا ہے۔ آپ سامنے سے ہٹ جاؤ، وہ بھی ہٹ جاتا ہے۔
  • ایسی دعوت میں جانے کا کیا فائدہ؟ جس میں نہ جانے سے دعوت کی مجموعی کیفیت پر کوئی نمایاں اَثر نہ ہو۔
  • بیدار کردینے والا غم، غافل کردینے والی خوشی سے بدرجہا بہتر ہے۔

مذہب سے متعلق اقوال[ترمیم]

  • مذہب ماضی کی آسانی کی طرف لے جاتا ہے اور سائنس مستقبل کی پیچیدگیوں کی طرف۔ اِس کا حل یہ ہے کہ آپ سائنس سے آسانی حاصل کرتے جاؤ اور مذہب سے رجوع کرتے جاؤ۔

گناہ سے متعلق اقوال[ترمیم]

  • کوئی مسلمان ایسا نہیں جو خوشی کے ساتھ گناہ کرے۔ گناہ بیماری کی طرح کہیں اُسے لاحق ہوجاتا ہے۔
  • گناہ وہ ہر عمل ہے جو تمہارے لیے نقصان دہ ہے۔
  • گنہگار کا گناہ عاجزی پیدا کر رہا ہو تو وہ بچ سکتا ہے۔
  • بدی کا موقع ہو اور بدی نہ کرو تو یہ بہت نیکی ہے۔

غم سے متعلق اقوال[ترمیم]

  • کائنات کا کوئی غم ایسا نہیں ہے جو آدمی برداشت نہ کرسکے۔
  • غم چھوٹے آدمی کو توڑ دیتا ہے۔ اگر غم میں غم دینے والے کا خیال رہے تو پھر انسان بہت بلند ہوجاتا ہے۔

موت سے متعلق اقوال[ترمیم]

  • مرنے کے دو ہی طریقے ہیں: غم مل جائے یا خوشیاں چلی جائیں۔
  • مرنے کے بعد زِندہ ہونے کی خوشی صرف اُسی شخص کو ہوسکتی ہے جو اِس زندگی میں کوئی کام کر رہا ہو۔ جو اِس زندگی میں کوئی کام کر رہا ہو تو اُسے مرنے کا خوف نہیں ہوتا۔
  • سانس کی موت سے پہلے بہت سی موتیں ہوچکی ہوتی ہیں، ہم سانس کو موت سمجھتے ہیں، حالانکہ سانس تو اعلان ہے اُن تمام موتوں کا، جو آپ مر رہے ہیں۔
  • آپ کے سانس گنتی کے مقرر ہوچکے ہیں، نہ کوئی حادثہ آپ کو پہلے مار سکتا ہے، نہ کوئی حفاظت آپ کو دیر تک زِندہ رکھ سکتی ہے۔
  • جب موت سے پہلے موت کا مقام سمجھ آ جائے تو موت کے بعد ملنے والے انعام موت سے پہلے ملنا شروع ہوجاتے ہیں۔
  • جو بات آپ کے دِل میں اُتر گئی، وہی آپ کا انجام ہے۔ اگر آپ کو موت آ جائے تو جس خیال میں آپ مریں، وہی آپ کی عاقبت ہے۔

فطرت سے متعلق اقوال[ترمیم]

  • انسان اپنا بہت کچھ بدل سکتا ہے حتیٰ کہ شکل بھی تبدیل کرسکتا ہے، لیکن وہ فطرت نہیں بدل سکتا۔

سخاوت سے متعلق اقوال[ترمیم]

  • سخی تب سخاوت کرسکے گا جب سائل بھی موجود ہو۔
  • کسی کو اُس کے حق سے زیادہ دینا احسان کہلاتا ہے۔
  • سائل بخیل کو سخی بنانے کے لیے آتا ہے۔
  • اگر صاحبِ مرتبہ شخص لوگوں کی خدمت میں مصروف ہو تو سمجھو کہ اُس کا یہ مرتبہ انعام ہے۔

شخصیات سے متعلق اقوال[ترمیم]

  • جتنے عظیم لوگ تھے، وہ غیر عظیم زمانوں میں آئے۔

شہرت سے متعلق اقوال[ترمیم]

  • شہرت ایک مستقل ابتلاء ہے جہاں انسانوں کی خوبیاں مشہور ہوتی ہیں، وہاں اُن کی خامیاں بھی مشہور ہونے لگ جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں واصف علی واصف.