پروین شاکر

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

w:پروین شاکر (پیدائش: 24 نومبر 1952ء – وفات: 26 دسمبر 1994ء) پاکستان کی نامور شہرت یافتہ شاعرہ تھیں۔

اشعار[ترمیم]

  • پاسبانی پہ اندھیرے کو تو گھر پر رکھا
    اور چراغوں کو تری راہگزر پر رکھا
    ہاتھ اُٹھائے رہے ہر لمحہ دُعا کی خاطر
    اور الفاظ کو تنسیخِ اَثر پر رکھا
    بے وفائی مری فطرت کے عناصر میں ہوئی
    تیری بے مہری کو اسبابِ دگر پر رکھا
    اِتنا آسان نہ تھا ورنہ اکیلے چلنا
    تجھ سے ملتے رہے اور دھیان سفر پر رکھا
    اُس کی خوشبو کا ہی فیضان ہیں اشعار اپنے
    نام جس زخم کا ہم نے گلِ تر پر رکھا
    پانی دیکھا نہ زمیں دیکھی نہ موسم دیکھا
    بےثمر ہونے کا الزام شجر پر رکھا

حوالہ جات[ترمیم]

  • محمد حامد نواز شیخ: مشاعرہ 1989ء، صفحہ 45/46۔ مطبوعہ ملتان، 1990ء
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں پروین شاکر.