پیر کامل

وکی اقتباسات سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

پیر کامل حمیرہ احمد کا ایک اردو زبان میں لکھا ہوا ناول ہے۔ اسے نوجوان نسل میں کافی مقبولیت حاصل ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار ایک امیر، بہت ذہین اور بگزا ہوا نوجوان لڑکا ہے۔ جو مختلف اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہے، مگر بعد میں ایک کہانی میں موڑ آتا ہے اور لڑکا ایک لڑکی سے محبت کرنے لگتا ہے، ناول میں قادیانیت کو موضوع بنایا گيا ہے۔ مرکزی کردار میں شامل لڑکی قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کرتی ہے۔ جس وجہ سے اس کے ہم مذہب اسے تلاش کر رہے ہوتے ہیں اور لڑکا (مرکزی کردار) اسے بچاتا ہے۔

اقتباسات[ترمیم]

  • جب تک انسان کو پانی نہیں ملتا، اسے یونہی لگتا ھے کہ وہ پیاس سے مر جائیگا مگر پانی کے گھونٹ بھرتے ہی وہ دوسری چیزوں کے بارے میں سوچنے لگتا ہے، پھر اسے خیال بھی نہیں آتا کہ وہ پیاس سے مر بھی سکتا تھا۔۔۔۔ کوئی پیاس سے نہیں مرتا۔۔۔۔۔ مرتے تو سب اپنے وقت پہ ہی ہیں اور اسی طرح، جس طرح اللہ چاہتا ہے مگر دنیا میں اتنی چیزیں ہماری پیاس بن جاتی ہیں کہ پھر ہمیں زندہ رہتے ہوئے بھی بار بار موت کے تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں پیر کامل.


حوالہ جات[ترمیم]