کتاب خروج

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search
1867ء میں ایک خیالی تصویر کے مطابق بنی اسرائیل کا مصر سے خروج دکھایا گیا ہے۔

کتاب خروج (انگریزی: Exodus، عبرانی: شِیموت) توریت کی دوسری کتاب ہے جس میں بنی اسرائیل کے مصر سے خارج ہونے کے واقعات درج ہیں۔ اِس کتاب میں موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر اُن کی قیادت میں بنی اسرائیل کی غلامی کی زندگی چھوڑ کر ایک منتخب شدہ قوم میں تبدیل ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اپنی روزمرہ کی زندگی گزارنے کے لیے موسیٰ علیہ السلام کی معرفت احکام اور قوانین دئیے۔ غالباً یہ کتاب قبل مسیح سے قبل مسیح کے درمیان تحریر کی گئی اور اِسے موسیٰ علیہ السلام کی تصنیف خیال کیا جاتا ہے۔

اقوال[ترمیم]

احکامات عشرہ[ترمیم]

  • اور خداوند نے یہ سب باتیں فرمائیں کہ : خداوند تیرا خدا جو تجھے ملکِ مصر کی غلامی سے نکال لایا، میں ہوں۔ اور خداوند نے یہ سب باتیں فرمائیں کہ : خداوند تیرا خدا جو تجھے ملکِ مصر کی غلامی سے نکال لایا، میں ہوں۔
    • باب 20، درس 2 تا 3
  • تُو کِسی بھی شَے کی صورت پر خواہ وہ اُوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا نیچے پانیوں میں ہو، کوئی بت نہ بنانا۔
    • باب 20، درس 4
  • تُو اُن کے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ ہی اُن کی عبادت کرنا۔ کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور ہوں۔
    • باب 20، درس 5
  • تُو خداوند اپنے خدا کا نام بری نیت سے نہ لینا کیونکہ جو کوئی اُس کا نام بری نیت سے لے گا تو خداوند اُسے بے گناہ نہ ٹھہرائے گا۔
    • باب 20، درس 7
  • سبت کے دِن کو یاد سے پاک رکھنا۔ چھ دِن تک تُو محنت سے اپنا سارا کام کاج کرنا۔ لیکن ساتوں دِن خداوند تیرے خدا کا سبت ہے۔ اُس دِن نہ تُو کوئی کام کرنا نہ تیرا بیٹا یا بیٹی، نہ تیرا نوکر یا نوکرانی، نہ تیرے چوپائے اور نہ ہی کوئی مسافر جو تیرے یہاں مقیم ہو۔ کیونکہ چھ دِن میں خداوند نے آسمانوں کو، زمین کو، سمندر کو اور جو کچھ اُن میں ہے، وہ سب بنایا۔ لیکن ساتویں دِن آرام کیا اِس لیے خداوند نے سبت کے دِن کو برکت دِی اور اُسے مقدس ٹھہرایا۔
    • باب 20، درس 8 تا 11
  • اپنے باپ اور ماں کی عزت کرنا تاکہ تیری عمر اُس ملک میں جو خداوند تیرا خدا تجھے دیتا ہے، دراز ہو۔
    • باب 20، درس 12
  • تُو خون نہ کرنا۔
    • باب 20، درس 13
  • تُو زِنا نہ کرنا۔
    • باب 20، درس 14
  • تُو چوری نہ کرنا۔
    • باب 20، درس 15
  • تُو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا۔ تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا۔ تُو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اُس کے غلام یا اُس کی کنیز کا، نہ اُس کے بیل یا گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا۔
    • باب 20، درس 16 تا 17۔