مندرجات کا رخ کریں

یشوع بن سیراخ

ویکی اقتباس سے
بیٹا! اگر تُو حکمت کی خواہش کرتا ہے تو حکموں (احکام) کو مان ، اور خداوند اُسے تجھے عطاء کرے گا۔ کیونکہ خداوند کا خوف حکمت اور تادیب ہے، اور اُس کی خوشنودی اِیمان اور حلیمی میں ہے۔

کتاب یشوع بن سیراخ بائبل کے مسترد کردہ کتب میں سے ایک ہے۔ بائبلی اپاکرفا میں کتابِ یشوع بن سیراخ کو شامل رکھا گیا ہے جبکہ پروٹسنٹ عقیدہ کے مطابق یہ اِلہامی کتاب نہیں ہے۔ کیتھولک عقیدہ کے مطابق کتابِ یشوع بن سیراخ اولاً عبرانی زبان میں تحریر کی گئی تھی جس کو بعد ازاں یشوع بن الی عازار کے پوتے نے یونانی زبان میں ترجمہ کیا تھا۔

اقتباسات[ترمیم]

باب 1[ترمیم]

  • خدا کا خوف دِل کو خوشی دیتا اور سرور اور فرحت اور اَیام کی درازی بخشتا ہے۔ جو خداوند سے ڈرتا ہے ، وہ اپنے انجام میں خوش دِل ہوگا اور اپنی موت کے دن مقبولیت پائے گا۔
    • باب 1، درس 12 تا 13۔
  • عبادت دِل کو قائم رکھتی اور اُسے پاک کرتی ہے اور سرور اور فرحت بخشتی ہے۔ جو خداوند سے ڈرتا ہے، وہ خوش دِل رہے گا اور اپنی وفات کے اَیام میں مقبولیت پائے گا۔
    • باب 1، درس 18 تا 19 ۔
  • خداوند کا خوف حکمت کا تاج ہے ۔ وہ سلامتی اور صحت کا ارام عطاء کرتا ہے۔
  • باب 1، درس 22۔
  • خداوند کا خوف گناہ کو ہنکا دیتا ہے۔
    • باب 1، درس27۔
  • عقلمند اپنی بات کو تھوڑی دیر چھپاتا ہے اور ایمانداروں کے ہونٹ اُس کی عقل کی تعریف کریں گے۔
    • باب، درس 30۔
  • حکمت کے ذخیروں میں معرفت کی تمثیلیں ہیں۔لیکن خطاکار نے نزدیک خدا کی عبادت مکروہ ہے۔ بیٹا! اگر تُو حکمت کی خواہش کرتا ہے تو حکموں (احکام) کو مان ، اور خداوند اُسے تجھے عطاء کرے گا۔ کیونکہ خداوند کا خوف حکمت اور تادیب ہے، اور اُس کی خوشنودی اِیمان اور حلیمی میں ہے۔
    • باب، درس 31 تا 33۔
  • آدمیوں کی نگاہ میں رِیاکار نہ ہو اور اپنے ہونٹوں کو اپنی حراست میں رکھ۔ اونچا مت ہو تاکہ تُو گِر نہ جائے اور اپنی جان پر ذِلت نہ لائے۔
    • باب، درس 37 تا 38۔

باب 2[ترمیم]

  • اگر تُو خداوند کی حکمت کے لیے آیا تَو صداقت اور خوف پر قائم رہ، اور اپنے آپ کو اِمتحان کے واسطے تیار کر۔اپنے دِل کو قبضے میں رکھ اور برداشت کر۔ اپنے کان کو مائل کر اور عقل کی باتیں قبول کر اور تکلیفوں کے وقت بھاگ نہ جا۔ صبر کے ساتھ خدا کا اِنتظار کر۔ اُس کے ساتھ چِپٹا رہ اور الگ نہ ہو۔ اِس طرح تیرے انجام میں زِندگی بڑھ جائے گی۔ جو کچھ تجھ پر آ پڑے، اُسے قبول کر۔ اور اپنی ذِلت کے حادثوں میں صبر کر۔ کیونکہ سونا آگ میں آزمایا جاتا ہے اور اِنسانوں میں سے پسندیدہ لوگ فروتنی کی بھٹی میں آزمائے جاتے ہیں۔
    • باب 2، درس 1 تا 5۔

مزید دیکھیں[ترمیم]