ابن عربی
ظاہری ہیئت
ابن العربی پیدائش 1165ء—وفات 1240ء)، ایک عرب اندلسی مسلمان عالم، صوفی، شاعر اور فلسفی تھے، جو اسلامی فکر میں انتہائی بااثر شخصیت مانے جاتے ہیں۔
اقتباسات
[ترمیم]
عنقاء مغرب في معرفة ختم الأولياء وشمس المغرب
[ترمیم]- چونکہ قصد کرنے والا اُس وقت تک بیت العتیق (خانہ کعبہ) نہیں پہنچ پاتا جب تک کہ وہ ہر عمیق گھاٹی طے نہ کرلے، ہم وطنوں اور وطن سے دور نہ ہو، گھر بار اور دوست احباب نہ چھوڑے، اپنے بیوی بچوں سے جدا نہ ہو اور اِس سفر میں ہر ایک سے وحشت نہ پائے، یہاں تک کہ جب وہ میقات (مقام) پر پہنچا تو اوقات کی غلامی سے خلاصی پائی۔ لباس کی سلائی سے آزاد ہوا[1]، وہ اِس کی زیبائش سے سادگی کی جانب آیا، اور اُس کی پکار پر لبیک کہا جس نے اِسے بلایا: اور وہ بھول گیا جو اِس سے قبل اُسے یاد تھا [2]، جب کدا [3] پہنچا تو اِس پر ہدایت کا پرچم ظاہر ہوا، پھر جب حرم میں داخل ہوا ، اُس پر (حلال اشیاء بھی) حرام ہوئیں۔ اُس نے حجر اسود کو چھوا اور بوسہ دیا تو اُسے ازلی میثاق یاد آیا، جب اس نے کعبہ کا طواف کیا تو اپنی نشات کا احاطہ کیا [4]۔ اِسی طرح وہ اپنے تمام مناسک میں اپنے ہی راستوں پر چلا۔ اگر اُس نے حج کے تمام ارکان کو درست طریقے سے اداء کیا اور اِس حج کے مقصد کو پایا، تو یہ وہ حاجی ہے جسے مبارکباد دی جاتی ہے۔
- عنقا ء مغرب، صفحہ 83۔
- اے بھائی! اِس راہ پر چل (یعنی راہِ ہدایت پر)، اور ساتھی (معبود) کو پکارتا رہ، یہاں تک کہ تو بغیر کسی جدائی کے اُس سے ملے اور بغیر ملاپ کے اُس سے جدا ہو۔ اور تیرے سائے صبح شام اُس سبحانہ کے سامنے سجدہ ریز رہیں۔
- عنقاء مغرب، صفحہ 89۔
- گھروں میں اُن کے دروازوں سے آیا جاتا ہے اور بادشاہوں کے پاس اُن کے دربانوں کی اِجازت سے جایا جاتا ہے۔
- عنقاء مغرب، صفحہ 97۔
