تصوف

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

جنید بغدادی[ترمیم]

  • تصوف دس معانی پر مشتمل نام ہے: پہلا یہ کہ دنیا کی ہر شے میں کثرت کی بجائے قلت پر اکتفا کرے۔ دوسرا یہ کہ اسباب پر بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ عزوجل پر قلب کا اعتماد رکھے۔ تیسرا یہ کہ نفلی طاعات کے ساتھ فرض پورا کرنے میں رغبت رکھے۔ چوتھا یہ کہ دنیا چھوٹ جانے پر صبر کرے اور دستِ سوال اور زبانِ شکوہ دراز نہ کرے۔ پانچواں یہ کہ قدرت کے باوجود کسی بھی شے کے حصول کے وقت حلال و حرام کی تمیز رکھے۔ چھٹا یہ کہ تمام مشغولیات کے مقابلے میں اللہ کے ساتھ شغل رکھنے کو ترجیح دے۔ ساتوں یہ کہ تمام اذکار کے مقابلے میں ذِکر خفی کو فوقیت دے۔ آٹھواں یہ کہ وساوس آنے کے باوجود اخلاص کو ثابت اور پختہ رکھے۔ نواں یہ کہ شک کی وجہ سے یقین کو متزلزل نہ ہونے دے۔ دسواں یہ کہ اضطراب اور وحشت کو چھوڑ کر اللہ عزوجل کے ساتھ اُنس اور سکون حاصل کرے۔ پس جو شخص اِن صفات کا حامل ہو، وہ اُس نام کا یعنی صوفی کہلانے کا مستحق ہے، ورنہ وہ کاذب ہے۔
  • ہر گھٹیا اخلاق سے پاک ہونا اور ہر اچھے اخلاق کو اپنانے کا نام تصوف ہے۔
  • نفس کو لوازمِ عبودیت کی مشق کرانا ہی تصوف ہے۔

شیخ عبدالقادر جیلانی[ترمیم]

  • تصوف گفتگو نہیں (یعنی قیل و قال نہیں ہے)، یہ بھوک ہے اور عمدہ چیزوں کا ترک ہے۔
    • تصوف اور صوفیاء، صفحہ 41۔

ذوالنون مصری[ترمیم]

  • صوفی وہ ہے جب بولے تو اُس کی زبان حقائق سے پردہ اُٹھائے اور اگر سکوت اختیار کرے تو اُس کے اعضاء و جوارح دنیا سے ترکِ تعلقات کی گواہی دیں۔

ابوبکر شبلی[ترمیم]

  • ابوبکر شبلی سے پوچھا گیا کہ عارف کی کیا علامات ہیں؟ شبلی نے فرمایا: عارف کا سینہ کھلا، قلب زخمی اور جسم بے حال ہوتا ہے۔ پوچھا گیا کہ عارف کی حقیقت کیا ہے؟ فرمایا: عارف وہ ہے جو اللہ عزوجل کو پہچان لے، اُس کی معرفت حاصل کرلے، اللہ عزوجل کی مراد اور منشاء کی معرفت حاصل کرلے۔ اللہ عزوجل کے حکم پر عمل پیرا ہوجائے، اللہ کی منہیات سے اجتناب کرے اور اللہ کے بندوں کو اُس کی راہ کی طرف بلائے۔ پوچھا گیا کہ یہ تو عارف ہوا اور صوفی کون ہے؟ فرمایا: جس شخص کا قلب صاف ہوگیا اور اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو اَپنایا، دنیا کو اپنے پیچھے پھینک دیا اور خواہشات کو مشقت کا مزہ چکھایا، وہ صوفی ہے۔ پوچھا گیا کہ یہ تو صوفی ہے اور تصوف کیا ہے؟ شبلی نے فرمایا: احوال کو قابو میں کرنا، دنیا سے کنارہ کرنا اور تکلف سے اعراض کرنا۔ پوچھا گیا کہ اِس سے مزید تصوف کیا ہے؟ فرمایا: علام الغیوب کی بارگاہ میں قلبِ مصفیٰ کا نذرانہ کرنا۔ پوچھا گیا کہ اِس سے اعلیٰ تصوف کیا ہے؟ شبلی نے فرمایا: اللہ کی تعظیم کرنا اور اُس کے بندگان کے ساتھ شفقت کا معاملہ رکھنا۔ پوچھا گیا کہ اِس سے بڑھ کر صوفی کی صفات کیا ہیں؟ فرمایا: جوہر گندگی سے صاف ہوگیا، رذیل و پست اخلاق سے پاک ہوگیا، فکرِ الٰہی سے بھر گیا اور اُس کے نزدیک سونا اور مٹی برابر ہوگیا، وہ عظیم ترین صوفی ہے۔

سری سقطی[ترمیم]

  • تصوف ایسے اخلاقِ کریمانہ کا نام ہے جو اپنے حامل شخص کو مُکَرَّم قوم سے ملا دیں۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

  • علامہ محمد افضل قادری: تصوف اور صوفیاء، مطبوعہ لاہور، 2012ء
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں تصوف.