امام شافعی

وکی اقتباسات سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

امام شافعی یا محمد بن ادریس الشافعی (پیدائش: اگست 767ء– وفات: 19 جنوری 820ء) اہل سنت کے فقہ شافعی کے امام ہیں۔

اقوال[ترمیم]

  • طلب علم نوافل نماز سے افضل ہے۔[1]
  • اگر شعر علما کے لیے عیب نہ ہوتا تو میں اِس زمانہ میں لبید بن ربیعہ سے بڑا شاعر ہوتا۔ (لبید بن ربیعہ زمانہ جاہلیت میں زبان عربی کا بلند پایہ شاعر تھا)۔[2]
  • ایک بار کسی شخص نے آپ سے کہا: آپ کا کیا حال ہے؟ تو فرمایا: اُس کی کیا حالت ہوگی جس سے اللہ تعالیٰ قرآن کا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ سنت کا، شیطان گناہوں کا، زمانہ اپنے مصائب کا، نفس اپنی خواہشات کا، اہل و عیال روزی کا اور ملک الموت قبض روح کا مطالبہ کرتے ہوں؟۔
  • تحصیل علم کے لیے فرماتے ہیں کہ: یہ علم دین کوئی شخص مالداری اور عزتِ نفس سے حاصل کرکے کامیاب نہیں ہو سکتا، البتہ جو شخص نفس کی ذلت، فقر و محتاجی اور علم کی حرمت کے ساتھ اِس کو حاصل کرے گا وہ کامیاب ہوگا۔[3]
  • امام شافعی کے نزدیک اگرمفتی یا مجتہد غلطی بھی کرے گا تو حسن نیت کی بنا پر وہ عنداللہ ماجور ہوگا۔ خود فرماتے ہیں کہ: جو عالم فتویٰ دے گا، اجر پائے گا۔ البتہ دین میں غلطی پر اجر نہیں ملے گا اِس کی اجازت کسی کو نہیں ہے اور ثواب اِس لیے ملے گا کہ جو غلطی اُس نے کی ہے اُس میں اِس کی نیت برحق تھی۔[4]
  • طبیعت اور طلب علم کے متعلق فرماتے ہیں کہ: طبیعت زمین ہے اور علم بیج ہے اور علم طلب سے ملتا ہے۔ جب طبیعت قابل ہوگی تو علم کی کھیتی لہلہائے گی اور اُس کے معانی و مطالب شاخ در شاخ پھیلیں گے۔
  • طرز اِستدلال کے متعلق فرماتے ہیں کہ: بہترین استدلال وہ ہے جس کے معانی روشن اور اُصول مضبوط ہوں اور سننے والوں کے دل خوش ہوجائیں۔

دیوان امام شافعی سے شعری اقوال[ترمیم]

  • حوادثات دنیاء ہمیشہ نہیں رہتے۔[5]
  • اگر مخلوقات پر تیرے کثیر عیوب ظاہر ہوگئے ہوں اور تجھے یہ بات پسند ہو کہ اُس کی پردہ پوشی ہو، تو سخاوت و بخشش کے ذریعہ پردہ پوشی اختیار کر کیونکہ مشہور ہے کہ سخاوت ہر عیب کو چھپا دیتی ہے۔[6]
  • کسی بخیل سے جود و سخا کی امید مت رکھ، اِس لیے کہ پیاسے کو آگ میں پانی نہیں ملتا۔
  • تاخیر تیرے رزق میں کمی نہیں کرتی اور بہت مشقت سے رزق میں اضافہ نہیں ہوتا۔
  • موت جب کسی کے صحن میں فروکش ہوجاتی ہے تو پھر اُس کو زمین و آسمان کی کوئی طاقت بچا نہیں سکتی۔[7]
  • انسان کے لیے وہ گھڑی کتنی حسرت ناک ہوتی ہے جو وہ اپنے دوستوں سے فراق کے بعد گزارتا ہے۔[8]
  • طبیب علم طب اور دواء کے ذریعہ تقدیر کے فیصلوں کو بدل نہیں سکتا۔[9]
  • تو خواہشات نفس کی خلاف ورزی کر اِس لیے کہ نفسانی خواہشات انسان کی بری قیادت کرتی ہیں۔[10]
  • جو شخص لوگوں کی عزت کرتا ہے، لوگ اُس کی عزت کرتے ہیں اور جو دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، اُس کی کبھی عزت نہیں کی جاتی۔[11]
  • عقلمند آدمی وہ ہے جو اپنے دشمنوں سے بھی دل کی ناراضی کے باوجود خندہ پیشانی سے ملے۔[12]
  • جاہل احمق کے جواب میں چپ رہنا شرافت ہے۔[13]
  • میں نے تکلیفوں پر ہنسنے والوں اور خوشیوں میں حسد کرنے والوں کے علاوہ کوئی اور نہیں پایا۔[14]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الحافظ الذہبی: سیر اعلام النبلا، جلد 10 صفحہ 53، مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت لبنان1401ھ / 1981ء۔
  2. دیوان امام شافعی: ص 124۔
  3. خطیب بغدادی: جامع البیان والعلم، جلد 2 صفحہ 98۔
  4. خطیب بغدادی: جامع البیان والعلم، جلد 2 صفحہ 72۔
  5. دیوان امام شافعی: ص 35۔
  6. دیوان امام شافعی: ص 36۔
  7. دیوان امام شافعی: ص 37۔
  8. دیوان امام شافعی: ص 42۔
  9. دیوان امام شافعی: ص 44۔
  10. دیوان امام شافعی: ص 63۔
  11. دیوان امام شافعی: ص 76۔
  12. دیوان امام شافعی: ص 85۔
  13. دیوان امام شافعی: ص 105۔
  14. دیوان امام شافعی: ص 113۔


ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں امام شافعی.