بایزید بسطامی

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

w:بایزید بسطامی (804ء – 874ء) مسلم صوفی بزرگ تھے جو ایران کے شہر بسطام سے تعلق رکھتے تھے۔

اقوال[ترمیم]

  • اگر تم اپنی عبادت اور ثواب کا کل انتظار کرو تو وہ عبادت اور خدمت نہیں، کیونکہ سچے کا اَجر حال ہی میں حاصل ہے۔
  • خوش خلقی اور خاموشی ہلکی ہیں پشت پر اور بھاری ہیں میزان پر۔
  • تواضع یہ ہے کہ تو درویشوں سے تواضع کرے اور امیروں سے تکبر۔
  • توکل یہ ہے کہ تو زندگانی کو ایک دن کے لئے جانے اور کل کی فکر نہ کرے۔
  • نیک بخت وہ ہے کہ نیکی کرے اور ڈرے اور بدبخت وہ ہے کہ وہ بدی کرے اور مقبولیت کی اُمید کرے۔
  • نفس ایک ایسی چیز ہے کہ جو ہمیشہ باطل کی طرف رخ کرتی ہے۔
  • ملک ایک کھیتی ہے اور عدل اُس کا پاسبان، پاسبان نہ ہو تو کھیتی اُجڑ جاتی ہے۔
  • نیکوں کی صحبت کارِ نیک سے بہتر ہے اور بدوں کی صحبت کارِ بد سے بدتر ہے۔
  • آسائش کا دروازہ اپنے اُوپر بند کرنا اور محنت کے زانوؤں کے نیچے سر رکھنا تصوف ہے۔
  • معرفت الٰہی کے ایک ذرے سے عارف کے قلب میں جو لذت اور سرشاری پیدا ہوتی ہے، اُس کے مقابلے میں بہشت کے ایک لاکھ محل ہیچ ہیں۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

  • اقوالِ اولیاء کا انسائیکلوپیڈیا، صفحہ 37 تا 43۔
ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں بایزید بسطامی.