جلال الدین رومی

وکی اقتباسات سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اگر تم ہزار بار توبہ توڑ چکے ہو، واپس آؤ

جلال الدین رومی مشہور فارسی شاعر مثنوی مولانا روم کے لکدنے والے۔ آپ کی مثنوی کا ترجما دنیا کی کئی زبانوں میں کیا جا چکا ہے۔ آپ کے پیروکار خود کو مولویہ کہلواتے ہیں۔ آپ کی دی؛گر تصنیفات میں، فیہ ما فی اور دیوان شمس تبریز ہیں اس کے علاوہ کچھ مکتوبات بھی آپ سے منسوب ہیں۔

اقتباسات[ترمیم]

تمہیں تو پروں کیساتھ پیدا کیا گیا ہے تم کیوں رینگنا چاہتے ہو۔
عورت خدا کی ایک کرن ہے۔ عورت کوئی زمینی محبوب نہیں ہے۔ تم کہہ سکتے ہو کہ وہ تخلیق کار ہے، تخلیق نہیں
میں نے بہت سے انسان دیکھے ہیں جن کے بدن پر لباس نہیں ہوتا، اور بہت سے لباس دیکھے جن کے اندر انسان نہیں ہوتا

مثنوی[ترمیم]

  • چھت پر کچھ لوگ کھڑے ہیں اور ان کا سایہ زمین پر پڑ رہا ہے

وہ لوگ جو چھت پر ہیں گویا فکر ہیں ہیں اور ان کا سایہ عمل

سایہ کی کیا ہستی ہے کہ آفتاب کی دلیل بن سکے اس کے لیے یہی بہت ہے کہ آفتاب کا محکوم ہے۔

فیہ ما فیہ[ترمیم]

  • آخر منصور کا انا الحق کہنا بھی یہی معنی رکھتا ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ انا الحق کہنا بہت بڑا دعویٰہے۔ بڑا دعویٰ تو انا العبد (میں بندہ ہوں) کہنا ہے۔ اناالحق بہت بڑی عاجزی ہے کیونکہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں خدا کا بندہ ہوں وہ دو ہستیوں کو ثابت کرتا ہے، ایک اپنے آپ کو اور دوسرا خدا کو، لیکن جو اناالحق کہتا ہے وہ اپنے آپ کو معدوم کرتا ہے، فنا کرتا ہے، وہ کہتا ہے اناالحق یعنی میں نہیں ہوں، سب وہی ہے۔ خدا کے سوا کوئی ہستی نہیں، میں کلی طور پر عدم محض ہوں اور کچھ بھی نہیں۔ اس میں بے حد عاجزی ہے مگر یہ بات لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔[1]

دیوان شمس[ترمیم]

  • اس نے ناز سے کہا کہ دیکھو اب زیادہ نا ستاؤ اور چلتے بنو

اس کا یہی کہنا کہ زیادہ نا ستاؤ میری آرزو ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

شاعر

حوالہ جات[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں جلال الدین رومی.


  1. مولانا جلال الدین رومی، فیہ ما فیہ، (اردو ترجمہ ملفوظات رومی، مترجم، عبدالرشید تبسم) ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، طبح چہارم 1991ء، صفحہ 80