علی ہجویری

ویکی اقتباس سے
(داتا گنج بخش سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

داتا گنج بخش یا علی بن عثمان الہجویری غزنوی (پیدائش: نومبر 1009ء — وفات: 25 ستمبر 1072ء) لاہور کے عظیم المرتبت صوفی، محقق و عالم تھے۔آپ کی وجہ شہرت کشف المحجوب ہے۔

اقوال[ترمیم]

کشف المحجوب سے اقتباسات[ترمیم]

  • صوفی کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اپنے محبوب سے وابستہ رکھے اور دنیائے غدار و بے وفا کے علل و اَسباب سے آزاد رہے کہ یہ دنیاء سرائے فجار و فساق ہے اور صوفی کا سرمایہ ٔ زِندگی محبتِ محبوبِ حقیقی ہے اور متاعِ دنیاء مناع راہِ رضا و صبر ہے۔
  • اقسامِ علم بے حد ہیں اور عمر انسانی نہایت ناقص۔ بنا بریں واضح ہوگیا کہ تمام علوم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض نہیں، مثلاً علم نجوم، علم حساب، علم صنائع و بدائع وغیرہ وغیرہ۔ مگر اِن علوم میں سے اِتنا حاصل کرنا لازمی ہے جس کی شریعتِ مطہرہ کے اندر ضرورت ہے، جیسے کہ علم نجوم۔ اِس کا اِتنا جاننا ضروری ہے کہ جس سے رات دن کے اوقات، صوم و صلوٰۃ کے وقت جانے جاسکیں۔ علم طب اِس قدر ضرور پڑھا جائے کہ جس سے انسان صحت کی حفاظت، عوارضاتِ مرض سے کرسکے۔ اِسی طرح ریاضی (علم حساب) اِس قدر پڑھنی ضروری ہے کہ جس سے علم فرائض آسانی سے سمجھ سکے۔
  • علماء سے لوازماتِ جہالت منفی ہوتے ہیں، اِس وجہ سے وہ علم کو ذریعہ ٔ جاہ و عزتِ دنیاء نہیں بناتے اور جو علم کے ذریعے جاہ طلبی کرتے اور عزت دنیاوی چاہتے ہیں، وہ لوازماتِ جہل میں ملوث رہ کر کوئی درجہ، درجاتِ اہل علم سے نہیں پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ علم بغیر کسی لطیفہ کے ذریعہ ٔ خدا رسیدہ نہیں ہوسکتا اور علم کی برکت سے تمام مقامات کا مشاہدہ ہوجاتا ہے۔
  • جس کو علم عرفان حاصل نہیں، اُس کا دِل ظلمتِ جہلی سے مردہ ہے اور ھسے شریعت حاصل نہیں، اُس کا دِل نادانی کی بیماری میں مریض ہے۔ کفار کا دِل مردہ ہے، اِسی وجہ سے وہ ذاتِ واجب تعالیٰ جل شانہ‘ کے عرفان سے جاہل ہیں اور اہل غفلت کا دِل بیمار ہے، اِس وجہ سے وہ فرمان ہائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے خبر ہیں۔

دوسرے ماخذین سے اقتباسات و اقوال[ترمیم]

  • محبت کا اظہار الفاظ میں نہیں ہوسکتا۔ اِس لئے کہ بیان‘ بیان کرنے کی صفت ہے اور محبت محبوب کی صفت ہے۔
  • کرامت ولی کی صداقت کی علامت ہوتی ہے اور اُس کا ظہور جھوٹے سے جائز نہیں۔
  • ایمان و معرفت کی انتہا عشق و محبت ہے اور محبت کی علامت بندگی ہے۔
  • راہِ حق کا پہلا قدم توبہ ہے۔
  • انسانوں کا کوئی گروہ ایسا نہیں، جسے غیب میں کوئی ایسا کام نہ پڑا ہو جس کی محبت سے اپنے دل میں فرحت یا زخم نہ رکھتا ہو۔
  • کھانے کے ادب کی شرط یہ ہے کہ تنہا نہ کھائیں اور جو کھائیں، ایک دوسرے پر ایثار کریں۔
  • جو چیز دولت مند کی خراب ہوجائے، اُس کا عوض ہوسکتا ہے لیکن جو چیز درویش کی بگڑ جائے تو اُس کا کوئی عوض نہیں ہوتا۔
  • دل پر ایک حجاب ہے جو ایمان کے سوا کسی اور چیز سے دور نہیں کیا جاسکتا اور وہ کفر اور گمراہی کا حجاب ہے۔
  • مسلسل عبادت سے مقامِ کشف و مشاہدہ ملتا ہے۔
  • رضا کی دو قسمیں ہیں: اول‘ خدا کا بندے سے راضی ہونا، دؤم‘ بندے کا خدا سے راضی ہونا۔
  • دین دار لوگوں کو خواہ وہ کیسے ہی غریب و نادار ہوں، چشم حقارت سے نہ دیکھو کہ اُس سے فی الجملہ خدا تعالیٰ کی تحقیر لازم ہوتی ہے۔
  • صوفی وہ ہے جس کے ایک ہاتھ میں قرآن مجید اور دوسرے ہاتھ میں سنت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے۔
  • نفس کی مثال شیطان کی سی ہے اور اُس کی مخالفت عبادت کا کمال ہے۔
  • غافل امراء، کاہل فقیر اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز کرنا عبادت ہے۔
  • سارے ملک کا بگاڑ اِن تین گروہوں کے بگڑنے پر ہے۔ حکمران جب بے علم ہوں، عالم بے عمل ہوں اور فقیر جب بے توکل ہوں۔
  • درویش کو لازم ہے کہ وہ بادشاہ کی ملاقات کو سانپ اور اژدھے کی ملاقات کے برابر سمجھے۔
  • کلام شراب کی طرح ہے، جو عقل کو مست کردیتی ہے اور آدمی جب اُس کے پینے میں پڑ جاتا ہے تو اُس سے باہر نہیں نکل سکتا اور اپنے آپ کو اُس سے روک نہیں سکتا۔
  • شریعت اور طریقت میں رقص کی کوئی سند نہیں، کیونکہ وہ عقل مندوں کے اتفاق سے جب اچھی طرح کیا جائے تو لہو ہوتا ہے اور جب بے ہُودہ طور پر کیا جائے تو لغو ہوتا ہے۔
  • طالبِ حق کو چاہیئے کہ چلتے وقت یہ خیال رکھے کہ اپنا قدم زمین پر کس لئے رکھتا ہے۔ خواہش نفسانی کے لئے یا اللہ تعالیٰ کے لئے؟ اگر وہ خواہش نفسانی کے لئے زمین پر قدم نہیں رکھتا ہے، تو اُس میں اور بھی کوشش کرے تاکہ اُسے مزید خوشنودی حاصل ہوجائے۔
    • تاریخ ساز اقوال، صفحہ 77۔

مزید پڑھیں[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں علی ہجویری.