کشف المحجوب

ویکی اقتباس سے
Jump to navigation Jump to search

کشف المحجوب گیارہویں صدی کے مشہور ترین صوفی اور عالم علی ہجویری کی تصنیف ہے جو تصوف کی لاجواب، بہترین اور شاندار شاہکار سمجھی جاتی ہے۔

اقتباسات[ترمیم]

باب اول[ترمیم]

  • اقسامِ علم بے حد ہیں اور عمر انسانی نہایت ناقص۔ بنا بریں واضح ہوگیا کہ تمام علوم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض نہیں، مثلاً علم نجوم، علم حساب، علم صنائع و بدائع وغیرہ وغیرہ۔ مگر اِن علوم میں سے اِتنا حاصل کرنا لازمی ہے جس کی شریعتِ مطہرہ کے اندر ضرورت ہے، جیسے کہ علم نجوم۔ اِس کا اِتنا جاننا ضروری ہے کہ جس سے رات دن کے اوقات، صوم و صلوٰۃ کے وقت جانے جاسکیں۔ علم طب اِس قدر ضرور پڑھا جائے کہ جس سے انسان صحت کی حفاظت، عوارضاتِ مرض سے کرسکے۔ اِسی طرح ریاضی (علم حساب) اِس قدر پڑھنی ضروری ہے کہ جس سے علم فرائض آسانی سے سمجھ سکے۔
    • باب اول: اثباتِ علم، صفحہ 84/85۔
  • علماء سے لوازماتِ جہالت منفی ہوتے ہیں، اِس وجہ سے وہ علم کو ذریعہ ٔ جاہ و عزتِ دنیاء نہیں بناتے اور جو علم کے ذریعے جاہ طلبی کرتے اور عزت دنیاوی چاہتے ہیں، وہ لوازماتِ جہل میں ملوث رہ کر کوئی درجہ، درجاتِ اہل علم سے نہیں پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ علم بغیر کسی لطیفہ کے ذریعہ ٔ خدا رسیدہ نہیں ہوسکتا اور علم کی برکت سے تمام مقامات کا مشاہدہ ہوجاتا ہے۔
    • باب اول: اثباتِ علم، صفحہ 87۔
  • جس کو علم عرفان حاصل نہیں، اُس کا دِل ظلمتِ جہلی سے مردہ ہے اور ھسے شریعت حاصل نہیں، اُس کا دِل نادانی کی بیماری میں مریض ہے۔ کفار کا دِل مردہ ہے، اِسی وجہ سے وہ ذاتِ واجب تعالیٰ جل شانہ‘ کے عرفان سے جاہل ہیں اور اہل غفلت کا دِل بیمار ہے، اِس وجہ سے وہ فرمان ہائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے خبر ہیں۔
    • باب اول: اثباتِ علم، صفحہ 96۔

باب دؤم[ترمیم]

  • درویش جس قدر تنگدست ہو، اُس کے لیے مفید ہے تاکہ حقیقتِ توکل و شانِ رزاق کے راز کا اُس پر اِنکشاف ہو۔ اِس لیے کہ درویش کے لیے علائقِ دنیاوی جس قدر زیادہ ہوں گے، اُسی قدر اُس کو نقصان ہوگا۔ غرض یہ کہ درویش درحقیقت وہی ہے جو ضروریاتِ زندگی کی کسی چیز سے واسطہ نہ رکھے۔ مگر اُسی قدر جس قدر کہ اُس کی ضرورت قوتِ لا یموت کو کافی ہو۔ غرض یہ کہ محبوبانِ الٰہی کی زندگی کا محض الطافِ خفی اور اسرارِ بے نیازی کے ساتھ وابستہ رہنا ہی بہتر و اَفضل ہے۔
    • باب دؤم: اثباتِ فقر، صفحہ 103۔
  • صوفی کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اپنے محبوب سے وابستہ رکھے اور دنیائے غدار و بے وفا کے علل و اَسباب سے آزاد رہے کہ یہ دنیاء سرائے فجار و فساق ہے اور صوفی کا سرمایہ ٔ زِندگی محبتِ محبوبِ حقیقی ہے اور متاعِ دنیاء مناع راہِ رضا و صبر ہے۔
    • باب دؤم: اثباتِ فقر، صفحہ 103

باب سوم[ترمیم]

  • اگر کسی کو اللہ مال دے اور وہ اُس کی محافظت میں اپنی زِندگی بسر کرے تو وہ بھی غنی ہے اور اگر منجانب اللہ کسی کو مال ملے اور وہ اُس کے صرف میں اپنی قوت صرف کرے تو وہ بھی غنی ہے۔ لیکن یہ دونوں باتیں ایسی ہیں کہ جن کا تعلق مِلک میں تصرف کرنے سے ہے اور یہ شانِ فقر کے خلاف ہے ، درحقیقت فقر میں ترکِ محافظت اور ترکِ خیالِ اسراف لازمی ہے۔
    • باب سوم: فقر و غنا، صفحہ 110۔
  • محبوبِ حقیقی کا عزیز بندہ وہی ہے جو بارِ بلاء محبوب بطیبِ خاطر اُٹھائے۔ اِس لیے کہ وہ بلاء جواز جانبِ محبوب آئے، وہ عزت خالص ہے اور نعماءِ دنیاء و بلاء دنیاء درحقیقت ذِلتِ خالص ہیں۔ اِس لیے عزت اُس بندے کو ملتی ہے جو سچائی کے ساتھ اپنے محبوب کے حضور حاضر ہو اور ذِلت اُسے جو مشاہدۂ حق سے اپنے آپ کو غائب کرے۔
    • باب سوم: فقر و غنا، صفحہ 113۔
  • درجہ ٔ تصوف میں جو لوگ ہیں، اُن کی تین قسم ہیں: ایک صوفی، دوسرا متصوف، تیسرا مستصوف۔ صوفی وہ ہے جو اپنے وجود سے فانی ہوکر باقی بحق ہوگیا ہو۔ قیدِ مزاج و طبائع سے آزاد ہوکر حقیقتِ حقائق کے ساتھ مل گیا۔ متصوف وہ ہے جو اِس درجہ کے حاصل کرنے کی آرزو میں تکلف و مشقت و مجاہدہ کر رہا ہے اور صوفی بننے کا خواہشمند ہےاور صوفیائے کرام کے رسم و رواج کی پیروی میں اپنی اِصلاح کرتا ہے اور مستصوف وہ ہے جو مال و منال دنیاوی حاصل کرنے کی غرض سے صوفیاء کرام کے اعمال و اَفعال و حرکات کی نقل کرتا ہے۔ صوفیاء کے اَقوال کہتا پھرتا ہے مگر خود محض بے خبر ہے اور کچھ نہیں جانتا۔
    • باب سوم: تصوف، صفحہ 125۔
  • حقیقتِ تصوف یہ ہے کہ بندہ کی صفت کو فنا کردے اور صفاتِ عبد کا فنا ہونا صفتِ حقہ باقی رہنے کو ہے اور یہی صفتِ حق ہے اور رسم تصوف دواماً بندہ سے مجاہدات و ریاضات کا تقاضا کرتی ہے اور فنائے صفت استقامت و استمرار اُس مجاہدہ پر رکھنا یہ بندہ کی شان ہے اور اِس مضمون کو بالفاظِ دِیگر یوں بھی اداء کرسکتے ہیں کہ حقیقتِ توحید میں بندہ کو کسی صفت سے متصف کرنا صحیح نہیں۔ اِس لیے کہ صفاتِ عبدِ حق عبد میں دوامی نہیں اور بندہ کی صفت کی حقیقت محض رسم ہے۔ اِس سے زیادہ کچھ نہیں اور واضح طور پر روشن ہے کہ صفتِ عبد باقی نہیں رہتی بلکہ بندہ میں کسی صفت کا آنا، یہ ایک فعل ہے اُس قدیم الصفات کا۔ اور ذاتِ قدیم الصفات کے جتنے افعال ہیں، وہ سب اُس کی مِلک اور تحت قدرت ہیں۔ تو درحقیقت جو صفت بندہ میں ہوگی، وہ صفت واجب تعالیٰ شانہ‘ ماننی پڑے گی۔
    • باب سوم: تصوف، صفحہ 126۔
  • تصوف اگر رسمی چیز ہوتی تو مجاہدہ و ریاضت سے حاصل ہوجاتا اور اگر یہ علم ہوتا تو محض تعلیم و تعلم سے حاصل ہوجاتا۔ تو ثابت ہوا کہ تصوف ایک خصلتِ خاص کا نام ہے اور جب تک یہ خصلت خود اپنے اندر انسان پیدا نہ کرے تو اُس وقت تک وہ (یعنی تصوف) حاصل نہیں ہوتا۔
    • باب سوم: تصوف، صفحہ 133۔

مزید پڑھیں[ترمیم]