قائداعظم محمد علی جناح

وکی اقتباسات سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
میرے پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کو دیانتداری، خلوص اور بے غرضی سے پاکستان کی خدمت کرنی چاہیے۔ (27 اگست 1947ء)

قائداعظم محمد علی جناح (پیدائش: 25 دسمبر 1876ء– وفات: 11 ستمبر 1948ء) آزادی پاکستان کے اہم رہنماء اور پاکستان کے بانی تھے۔ بیسویں صدی عیسوی میں وہ برصغیر میں مسلمانوں کے عظیم ترین رہنماء تسلیم کیے جاتے تھے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ وکیل تھے۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان کی آزادی کے بعد پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے اور اپنی وفات تک اِس عہدے پر فائز رہے۔ 11 ستمبر 1948ء کو کراچی میں انتقال کرگئے اور موجودہ مزار قائد کے احاطہ میں تدفین کی گئی۔ عوام میں اُن کی تقاریر اکثر انگریزی زبان میں ہوا کرتی تھیں، بعد ازاں اردو زبان میں بھی اُن کی تقاریر عوامی دلچسپی کا باعث بنیں۔اُنہیں قائداعظم، بابائے قوم کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔

اقتباسات[ترمیم]

قائداعظم محمد علی جناح کے الفاظ، جو پاکستان کا قومی شعار بھی ہیں
  • کفایت شعاری قومی فریضہ ہے۔
قائداعظم بحیثیت بیرسٹر
قائداعظم محمد علی جناح (1945ء)
  • مساوات اور اخوت ہو تو جمہوریت بنتی ہے۔
  • برداشت کے سچے جذبات کا مظاہرہ کریں۔
  • مسلمان کے لیے اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں ہو سکتا کہ وہ صداقت کی خاطر شہید کی موت مر جائے۔
  • پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی،صرف اردو ہو گی۔
  • ہمیں پنجابی،سندھی،بلوچی بن کر نہیں سوچنا چاہیے،بلکہ ہمیں پاکستانی بن کر سوچنا ہے۔
  • ایک فیصلہ لینے سے پہلے سو بار سوچا کرو، مگر جب فیصلہ لے لو تو اس پہ ایک مرد کے طرح قائم رہو۔
پٹنہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا چھبیسواں سالانہ اجلاس– 1938ء
قائداعظم محمد علی جناح قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے– (14 اگست 1947ء)
قائداعظم محمد علی جناح – (1947ء)
قائداعظم محمد علی جناح، آل انڈیا مسلم لیگ کے اراکین کے ہمراہ، سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور کے بعد – 23 مارچ 1940ء
قائداعظم محمد علی جناح – (1947ء)

قومی شعار[ترمیم]

پاکستان کا قومی شعار جو دراصل قائداعظم محمد علی جناح کے الفاظ ہیں:

  • ایمان، اتحاد، تنظیم

19 اکتوبر 1938ء[ترمیم]

  • اگر مسلمانوں کو اپنے عزائم اور مقاصد میں ناکامی ہوگی تو مسلمانوں ہی کی دغا بازی کے باعث ہوگی، جیسا کہ گزشتہ زمانے میں ہوچکا ہے۔ میں دغا بازوں کا ذکر کرنا پسند نہیں کرتا، لیکن ہر انساف پسند اور سچے مسلمان سے میری درخواست ہے کہ اپنی جماعت کی فلاح و بہبود کی غرض سے متحد و متفق ہوکر مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر آکر اُس کے پرچم کے نیچے کام شروع کردے۔

(سندھ مسلم لیگ کانفرنس کراچی سے خطاب، 19 اکتوبر 1938ء)

21 اکتوبر 1939ء[ترمیم]

  • میری زِندگی کی واحد تمناء یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد و سربلند دیکھوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اِطمینان لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا فرض اداء کردیا۔

(آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے خطاب، 21 اکتوبر 1939ء)

23 مارچ 1940ء[ترمیم]

  • اپنی تنظیم اِس طور پر کیجئیے کہ کسی پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ یہی آپ کا واحد اور بہترین تحفظ ہے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی کے خلاف بدخواہی یا عناد رکھیں۔ اپنے حقوق اور مفاد کے تحفظ کے لیے وہ طاقت پیدا کر لیجئے کہ آپ اپنی مدافعت کرسکیں۔(مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور سے خطاب، 23 مارچ 1940ء)

2 نومبر 1940ء[ترمیم]

  • چھوت چھات صرف ہندو مذہب اور فلسفے میں جائز ہے۔ ہمارے ہاں ایسی کوئی بات نہیں۔ اسلام انصاف، مساوات، معقولیت اور رواداری کا حامل ہے، بلکہ جو غیر مسلم ہماری حفاظت میں آ جائیں، اُن کے ساتھ فیاضی کو بھی رواء رکھتا ہے۔ یہ لوگ ہمارے بھائی ہیں اور اِس ریاست میں وہ شہریوں کی طرح رہیں گے۔

(مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلباء سے خطاب، 2 نومبر 1940ء)

6 مارچ 1941ء[ترمیم]

  • اقبال نے آپ کے سامنے ایک واضح اور صحیح راستہ رکھ دیا ہے جس سے بہتر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوسکتا۔ وہ دورِ حاضر میں اسلام کے بہترین شارح تھے کیونکہ اِس زمانے میں اقبال سے بہتر اسلام کو کسی نے نہیں سمجھا۔ مجھے اِس کا فخر حاصل ہے کہ آپ کی قیادت میں ایک سپاہی کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع مل چکا ہے۔ میں نے اُس سے زیادہ وفادار رفیق اور اسلام کا شیدائی نہیں دیکھا۔

(ہفت روز حمایتِ اسلام، لاہور، 6 مارچ 1941ء)

3 جولائی 1943ء[ترمیم]

  • یہ تلوار جو آپ نے مجھے عنایت کی ہے، صرف حفاظت کے لیے اُٹھے گی۔ لیکن فی الحال جو سب سے ضروری امر ہے، وہ تعلیم ہے۔ علم تلوار سے بھی زیادہ طاقتور ہوتا ہے، جائیے اور علم حاصل کیجئیے۔

(مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ کوئٹہ، بلوچستان سے خطاب، 3 جولائی 1943ء)

21 نومبر 1945ء[ترمیم]

  • میں ایک بار پھر اپیل کروں گا کہ جن لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے مسلم بورڈ کی طرف سے ٹکٹ نہیں ملے، اگر اُنہوں نے دس کروڑ مسلمانوں سے غداری کی تو وہ خود بھی وزیراعظم یا وزیر بننے کے لیے زندہ نہ رہ سکیں گے۔

(مسلم لیگ کانفرنس منعقدہ پشاور سے خطاب، 21 نومبر 1945ء)

17 اپریل 1946ء[ترمیم]

  • ہماری یہ منشاء نہیں ہے کہ پاکستان کے قیام کے ساتھ ساتھ اختلافات اور جھگڑے شروع ہو جائیں۔ ہمارے سامنے بہت کام ہوں گے۔ اِسی طرح (ہندو) برادرانِ وطن کو اپنی مملکت میں بہت سے کام کرنے ہوں گے۔ لیکن وہ اہماری اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی شروع کردیتے ہیں اور اُن کو ستاتے ہیں تو پاکستان ایک خاموش تماشائی نہ بنے گا۔ اگر گلیڈسٹون کے زمانے میں برطانیہ اقلیتوں کے تحفظ کے نام پر امریکہ میں مداخلت کرسکتا تھا تو اگر ہندوستان میں ہماری اقلیتوں پر مظالم کیے گئے تو ہمارا مداخلت کرنا کیونکر حق بجانب نہ ہوگا؟

(مسلم لیگ کنونشن دہلی سے خطاب، 17 اپریل 1946ء)

3 جون 1947ء کو آل انڈیا ریڈیو، دہلی سے خطاب کرتے ہوئے

11 اگست 1947ء[ترمیم]

  • اِس مملکت پاکستان میں آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں کو جانے کے لیے، اپنی مساجد کو جانے کے لیے، اور دیگر عبادت کے مقامات کو جانے کے لیے۔ آپ کسی بھی دین، مذہب، ذات یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں، کارِ ریاست کا اِس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

(کراچی میں پاکستان کی پہلی قومی اسمبلی سے صدارتی خطاب، 11 اگست 1947ء)

24 اگست 1947ء[ترمیم]

  • جو لوگ اپنی نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کو ختم کردیں گے، بڑی سخت بھول میں مبتلاء ہیں۔ دنیاء کی کوئی طاقت پاکستان کا شیرازہ بکھیرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی، اِس پاکستان کا جس کی جڑیں مضبوط اور گہرائی کے ساتھ قائم کردی گئی ہیں۔ ہمادے دشمنوں کے اُن خوابوں یا اِرادوں کا نتیجہ جس کی وجہ سے وہ قتل اور خونریزی پر اُتر آتے ہیں، سوائے اِس کے کچھ نہ نکلے گا کہ کچھ اور معصوم اور بے گناہوں کا خوب بہے۔ یہ لوگ اپنی حرکتوں سے اپنے فرقہ کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ لگا رہے ہیں۔

(24 اگست 1947ء کو جلسہ عام سے خطاب)

27 اگست 1947ء[ترمیم]

  • میرے پیغام کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کو دیانتداری، خلوص اور بے غرضی سے پاکستان کی خدمت کرنی چاہیے۔

(27 اگست 1947ء)

24 اکتوبر 1947ء[ترمیم]

  • ہم جتنی زیادہ تکلیفیں سہنا اور قربانیاں دینا سیکھیں گے، اُتنی ہی زیادہ پاکیزہ، خالص اور مضبوط قوم کی حیثیت سے اُبھریں گے، جیسے سونا آگ میں تپ کر کندن بن جاتا ہے۔

(24 اکتوبر 1947ء کو عید الاضحیٰ کے موقع پر قوم سے خطاب)

30 اکتوبر 1947ء[ترمیم]

  • ہمیں جو دکھ دیا گیا ہے، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ مگرہمیں پاکستان کو قائم رکھنے کے لیے ابھی اور قربانیاں دینی ہوں گی۔ مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا۔ ہمارے حوصلے بلند ہیں۔ اگر اسی طرح تمام ملت ہمت اور لگن کے ساتھ کام کرتی رہی تو ہماری یہ مصیبتیں انشاءاللہ بہت جلد ختم ہو جائیں گی۔

(لاہور میں میموتھ ریلی سے خطاب، 30 اکتوبر 1947ء)

25 جنوری 1948ء[ترمیم]

  • میں اُن لوگوں کی سوچ کو نہیں سمجھ سکتا جو جان بوجھ کر یا شیطانی سازشوں کے سبب پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کا آئین اسلامی شریعت کے مطابق نہیں ہوگا۔ اسلامی قوانین آج کی زندگی میں زیادہ قابل قبول ہیں بہ نسبت 1300 سال قبل کے۔

(کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب، 25 جنوری 1948ء)

21 مارچ 1948ء[ترمیم]

  • حکومت کے سامنے صرف ایک ہی مقصد ہوسکتا ہے، عوام کی بے لوث خدمت، اُن کی فلاح و بہبود کے لیے مناسب تدابیر اختیار کرنا، اِس کے سواء برسراقتدار حکومت کا مقصد کیا ہوسکتا ہے؟۔ اور اگر اِس کے علاوہ کوئی اور مقصد سامنے ہے تو ایسی حکومت کو اقتدار سے الگ کردو، لیکن ہلڑبازی سے نہیں۔ اقتدار آپ کے پاس ہے اور یہ آپ کی چیز ہے۔ آپ کو اِسے استعمال کرنے کا فن بھی آنا چاہیے۔ آپ کو سیاسی نطام کے اسرار و رموز اور طریق کار بھی سیکھنے چاہئیں۔

(ڈھاکہ میں جلسہ عام سے خطاب، 21 مارچ 1948ء)

26 مارچ 1948ء[ترمیم]

  • آزادی کا مطلب بے لگام ہوجانا نہیں ہے۔ آزادی کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں اور مملکت کے مفادات کو نظرانداز کرکے آپ جو چاہیں، کر گزریں۔ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ۔ اب یہ ضروری ہے کہ آپ ایک منظم و منضبط قوم کی طرح کام کریں۔ اِس وقت ہم سب کو چاہیے کہ تعمیری جذبہ پیدا کریں۔ جنگ آزادی کے دِنوں کی جنگجوئی کی اب ضرورت نہیں رہی۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے جنگجویانہ جذبات اور جوش و خروش کا مظاہرہ آسان ہے اور ملک و ملت کی تعمیر کہیں زیادہ مشکل۔

(ڈھاکہ یونیورسٹی میں خطاب۔ 26 مارچ 1948ء)

15 جون 1948ء[ترمیم]

  • کمزور سہاروں سے چمٹے رہنا بہت بڑی غلطی ہے، خاص طور پر ایسی صورت میں کہ آپ ایک نئی اور نوزائیدہ مملکت زبردست اور بے شمار اندرونی و بیرونی مسائل میں گھری ہوئے ہیں، ایسے موقع پر مملکت کے وسیع تر مفاد کو صوبائی یا مقامی یا ذاتی مفاد کے تابع کرنے کا ایک ہی مطلب ہے۔۔۔ خودکشی !

(کوئٹہ میونسپلٹی کی استقبالیہ تقریب سے خطاب، 15 جون 1948ء)

14 اگست 1948ء[ترمیم]

  • قدرت نے آپ کو ہر نعمت سے نوازا ہے۔ آپ کے پاس لامحدود وسائل موجود ہیں۔ آپ کی ریاست کی بنیادیں مضبوطی سے رکھ دی گئی ہیں۔ اب یہ آپ کا کام ہے کہ نہ صرف اِس کی تعمیر کریں بلکہ جلد از جلد اور عمدہ سے عمدہ تعمیر کریں۔ سو آگے بڑھیے اور بڑھتے ہی جائیے۔

(14 اگست 1948ء کو آزادی پاکستان کی پہلی سالگرہ پر قوم سے خطاب)

معاصرین کی نظر میں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]