محمد صلی اللہ علیہ وسلم

وکی اقتباسات سے
Jump to navigation Jump to search


محمد صل للہ علیہ والہ وسلم عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ نے 63 سال دنیا میں گزارے، آپ نے دنیا کو اسلام کی تجدید کرائی۔ اور آدم تا ابراہیم اور ابراہیم تا عیسیٰ جو پیغام تھا۔ اس کو زندہ و جاوید کر دیا۔ آپ نے قرآن کے ذریعے عربوں کو ساری دنیا کی علمی حکمرانی عطا کر دی۔ جس سے صدیوں تک دنیا منور رہے گی۔ آپ کے اقوال و افعال کو کثرت کے ساتھ مسلمانوں نے محفوظ کیا۔ جن کو احادیث کہا جاتا ہے، قرآن کو وحی یعنی اللہ کی طرف سےنازل شدہ مانا جاتا ہے۔ احادیث کے کثیر مجموعے مرتب ہو گئے، جن پر باقاعدہ فن اسماء الرجال اور درایت کے اصولوں سے نقد کیا جاتا رہا ہے، جس سے صحیح اور ضعیف، اور جھوٹی روایتوں کو الگ الگ کر دیا گيا ہے۔ احادیث (اقوال و افعال نبی) اسلامی شریعت کا بنیادی ماخذ ہیں۔ قرآن و حدیث ہی فقہ اسلامی اور عقائد و نظریات کی بنیاد ہیں۔

حدیث قدسی[ترمیم]

اس منفرد حدیث کے الفاظ آپ صل للہ علیہ والہ وسلم خود ادا فرماتے ہیں مگران کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرما دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں احادیث قدسیہ کہا جاتا ہے۔ مثلاً آپ صل للہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یَاعِبَادِیْ إِنِّی حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِیْ وَجَعَلْتُہُ بَیْنَکُمْ مُحَرَّماً فَلاَ تَظَالَمُوْا۔ الحدیث۔[1] اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر دیا ہے اور تمہارے درمیان بھی۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا۔

حدیث صحیح[ترمیم]

حدیث ضعیف[ترمیم]

حدیث جبرائیل[ترمیم]

کھانے پینے سے متعلق[ترمیم]

احادیث مبارکہ ﷺ 1. حضرت ابی الدردا سے روایت ھے میں نے عرض کیا یارسول اللھہﷺ "اگر مجھے صحت و عافیت ھاصل رھے تو میں شکر کرتا ھوں اور یہ بات اس امر کے مقابلہ میں مجھے زیادہ محبوب رھے کہ میں بیماری سے آزمایؑش میں پڑوں اور صبر کروں" اس پر آپؐ نے فرمایا "اور اللھہ کا رسول بھی تمھارے ساتھ صحت و عافیت محبوب رکھتا ھے"۔ 2. رسول اللھہ ﷺ نے فرمایا "صحت اور فراغت خدا بزرگ و برتر کی نعمتوں میں سے دو نعمتیں ھیں اکثر لوگ انکے بارے میں دھوکے یا نقصان میں ھیں" 3. منقیٰ کے بارے میں ارشاد فرمایا "اسے کھاؤ یہ بھترین کھانا ھے یہ تھکن کو دور کرتا ھے غصہ تھنڈا کرتا ھے اعصاب کو مضبوط کرتا ھے چھرے کو خوبصورت کرتا ھے بلغم کو نکالتا ھے اور چھرے کی رنگت کو نکھارتا ھے" 4. "جس نے روزانہ منقیٰ سرخ کے اکیس دانے کھاےؑ وہ ان تمام بیماریوں سے محفوظ رھے گا جن سے ڈر لگتا ھے"۔ 5. آپﷺ کے لیے منقیٰ بھگویا جاتا تھا وہ شربت اس روز پیتے اگلے روز پیتے اور بعض اوقات اس سے اگلے روز بھی بقایا دوسروں کو دے دیتے تھے 6. "منقیٰ کھایا کرو مگر اسکا چھلکا اتار دیا کرو کیونکہ اسکے چھلکے میں بیماری اور گودے میں شفا ھے" 7. ذات الجنب (پلوریسی) کے علاج میں درس اور زیتون کا تیل بھت مفید ھے" (جامع ترمزی) 8. تندرست افراد (بلاضرورت) مریض کے قریب نہ جایں" (صیح بخاری و مسلم) 9. ایت: اے نبی آپکے اوپر اللّھ نے کتاب اتاری اور آپکو حکمت کے ساتھ ایسی چیزوں کا علم دیا جو (اس سے پھلے) آپکے پاس نھیں تھا" (سورۃ النسا) 10. "بدن کی تھنڈک بیماریوں کا باعث ھوتی ھے" (سنن ابن حبان) 11. "کوڑھ کے مریض سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ھو۔ اس سے اگر بات کرنا ضروری ھو تو اپنے اور اسکے بیچ 1-2 تیر کا فاصلہ رکھو" (متفق علیہ) 12. "کھانستے اور چھینکتے وقت منہ کے آگے ھاتھ یا کپڑا رکھا جاۓ" (صیح بخاری) 13. "پانی اس وقت تک پاک ھے جب تک کویؑ چیز اسکی بو، ذایؑقہ اور رنگت کو تبدیل نہ کرے" (بھقی) 14. "الّلھ تعالٰی نے بیماریاں نازل کرتے ھوۓ انکا علاج بھی نازل کیا ھے اس لیے علاج کرتے رھنا چاھۓ البتہ حرام چیزوں سے علاج نہ کیا جاۓ" 15. "الّلھ نے ایسے کویؑ بیماری نھیں اتاری جسکا علاج اتارا نا گیا ھو" (بخاری و مسلم) 16. "الّلھ تعالٰی نے دنیا میں ایسی کویؑ بیماری نازل نھیں کی جسکی دوا نہ اتاری گیؑ ھو جب دوا کے اثرات بیماری کی ماھیت سے مطابقت رکھیں تو الٗلھ تعالٰی کے حکم سے شفا ھو جاتی ھے" (صیح مسلم) 17. "جس شخس نے (طب کے) علم کو باقاعدہ (سلیقے اور توجہ سے) نہ پڑھا ھو وہ اپنے ھر فعل کا خود ذمہ دار ھو گا" (سنن ابن ماجہ) 18. "طبیب کا کام صرف مریض کواطمینان دلانا ھے جبکہ اسے شفا دینا الٗلھ کا کام ھے" (مسنداحمد) 19. حضرت سعد بن ابی وقاص ارشاد فرماتے ھیں کہ میں ایک دن بیمار تھا کہ آپ کو خبر ھویؑ اور آپ عیادت کو تشریف لاۓ۔ میری حالت دیکھ کر فرمایا کہ اسے دل کا عارضہ ھے۔ میرے درد کو دور کرنے کے لیے آپنے اپنا ھاتھ میرے سینے پر پھیرا اور اسکی تھنڈک میرے سارے بدن میں پھیل گیؑ۔ پھر ارشاد فرمایا کہ اسے حارث بن مکدہ کے پاس لے جاؤ جو کہ بنی ثقیف میں مطب کرتا ھے اور طبیب کو چاھۓ کہ وہ مدینہ کی عجوہ کجھور کے سات دانے گھٹلی سمیت کوٹ کر مریض کو کھلاۓ" (سنن ابوداؤد) 20. "جنت سے اگر کویؑ میوہ زمین پر آسکتا ھے تو یھی ھے انجیر۔ کھاؤ کہ یہ بواسیر کو کاٹ کر رکھ دیتی ھے اور جوڑوں کے درد میں مفید ھے" (سنن ابن السنی) 21. الکحل بارے فرمایا " یہ دوایؑ نھیں بلکہ بیماری ھے" 22. "رفع حاجت کے وقت بایؑں پاؤں پر بوجھ ڈالیں اور دایؑں پاؤں کو کھڑا کر لیں" 23. "بازار میں کھانا کمینہ (غیر اخلاقی اور غیر محفوظ) حرکت ھے" 24. "جو شخس مٹی کھاتا ھے وہ اپنے اپکو قتل کرنے میں اعانت کرتاھے" 25. "عجوہ کھجور میں ہر بیماری سے شفاء ھے" 26. حضرت ابوہریرہ سے روایت ھے کہ کھجور کھانے سے قولنج (بڑی آنت کا درد) نہیں ھوتا۔ 27. "جس گھر میں کھجور ہواس گھر والے کبھی بھوکے نہ رہیں گے" 28. "رات کا کھانا ضرور کھاؤ خواہ تمہیں کھجور کی ایک مٹھی میسر ہو کیونکہ رات کا کھانا ترک کرنے سے بڑھاپا (کمزوری) طاری ہو جاتا ھے" 29. "کھانے کے ساتھ (ھمیشہ) سالن استعمال کرواگرچہ وہ پانی کی صورت میں ھو" 30. "بھترین سالن نمک ھے" 31. "کھانے میں آپکو کدو بھت مرغوب تھا" 32. "جو کھانا تمھارے سامنے ھے وھی کھاؤ" 33. "تھایؑ پیٹ کھانے کی لیے، تھایؑ پیٹ پانی کے لیے اور تھایؑ پیٹ سانس کے لیے ھے" 34. "خوشی غزا کو ھضم ھونے اور جزو بدن بننے میں مدد دیتی ھے اور رنج و غم کھانے کو جزو بدن بننے نھیں دیتے" 35. " کھانے کی چکنایؑ ھاتھوں، بازؤں اور قدموں سے صاف کرلی جاۓ" (ابن ماجہ) 36. "جس نے رات کو ھاتھ نہ دھوۓ اور اسکو کسی حشرات الارض سے نقصان پھنچا تو ھمارا ذمہ نھیں" 37. "پانی چوس چوس کر پیؤ اور غٹ غٹ کر کے نہ پیؤ" 38. "اگر تمھیں پتا لگ جاۓ کہ کھڑے ھو کر پانی پینے کا اتنا نقصان ھے تو وہ پانی تم حلق میں انگلی ڈال کر نکال دو" 39. احادیث مبارکہ میں پانی 3 اور بعض میں 2 سانسوں میں پینے کا حکم ھے۔ اسی طرح پیالے میں سانس لینے سے منع فرمایا۔ اور کھلے منہ والے برتن میں پانی پینے کا حکم فرمایا۔ آپ سرد اور قدرتی شریں پانی نوش فرماتے تھے۔ آپ نے اس بات سے بھی سختی سے منع فرمایا کہ کسی کھلے کھڑے پانی میں جو نھانے دھونے یا پینے کا کام میں لایا جاتا ھو کویؑ غلاظت پھیلایؑ جاۓ یا اس میں پیشاب پاخانہ کیا جاۓ۔ اس قسم کے کنوؤں سے پانی پینے اور استعمال کرنے سے منع فرمایا جو کھنڈرات میں صدیوں سے ویران اور بیکار پڑے ھوں۔ آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ دودھ اور مچھلی، دودھ اور ترشی، دو گرم غزایں، دو جلاب آور غزایں، دو چپکنے والی غزایں جمع نہ فرماتے تھے۔ اسی طرح نہ ھی ایک قابض اور دوسری جلاب آور، ایک زود اور دوسری دیر ھضم، ایک تازہ اوردوسرے باسی غزا کھاتے تھے۔ آپ نہ تو تیز گرم کھانا کھاتے، نہ ھی رات کا پکا ھوا اور نہ ھی چٹ پٹے کھانے کھاتے تھے۔ 40. قرآن میں ھے کہ "پانی سے ھم نے ھر چیز کو زندگی بخشی ھے" 41. آپ نے تیز گرم کھانے میں بے برکتی فرمایؑ ھے۔ نیز کھانے پینے کی چیزیں ڈھانپ کر رکھنے کی ھدایت کی۔ 42. آپ دودھ میں پانی ڈالی لسی پی لیتے تھے اور ان چھنا موٹا آٹا پسند کرتے تھے۔ 43. انگور کی شراب بارے پوچھا تو فرمایاکہ "حرام چیزوں میں شفا نھیں ھوتی" 44. قرآن نے خون پینے کو منع فرمایا ھے۔ 45. "تمھارے فایدے کے لیے گاۓ کا دودھ ھے کیونکہ یہ دودھ اور اسکا مکھن مفید دوایؑں ھیں البتہ اسکے گوشت میں بیماری ھے اس سے بچو"۔ 46. "گاۓ کے دودھ میں شفا ھے اسکا مکھن ایک عمدہ دوایؑ ھے اور اسکا گوشت بیماری کا باعث ھوتاھے" 47. جنگِ احد کے دوران جب آپ کو زخم آۓ تو پھلے آپ نے زخموں کو دھویا پھر ان پر بار بار ٹھنڈا پانی ڈالا۔ اس سے انجماد خون نہ ھوا اور نی ھی سوزش اور ورم آیا۔ 48. آپ نے ایک ھنگامی حکم کے تحت مدینہ کے سارے کتے ھلاک کروا دیۓ اور یہ بھی فرما دیا کہ جس گھر میں کتا ھو گا اس میں رحمت کا فرشتہ داخل نہ ھو گا۔ 49. "جس کسی نے زندہ جانور کے جسم سے جو ٹکڑا کاٹا وہ مردار ھے"۔ 50. "چھریاں خوب تیز کی جایؑں اور انکو جانوروں سے چھپا کر لے جایؑں اور جب ذبح کر تو جلدی کر ڈالو"۔ 51. "الّلھ تعالٰی نے ھر چیز پر احسان کرنے کی ھدایت فرمایؑ اگر تم کسی کو قتل بھی کرو تو اسے بھی جلد از جلد انجام دو اور اگر ذبح کرنے لگو تو بھی چابک دستی سے کرو۔ چھری کو اچھی طرح تیز کرواور ذبیح کو آرام دو" 52. ایک دفعہ ایک بکری مر رھی تھی ایک شخس نے تیز پتھر سے اسکو ذبح کیا اور آپ نے اسکو کھانے کا حکم دیا 53. "جو شخص ھر ماہ میں صبح کے وقت شھد چاٹے گا اسے کویؑ بڑی بلا بھی تکلیف نھیں دے سکتی" (سنن ابن ماجہ) 54. "شھد ھر جسمانی مرض کے لیے شفا کاباعث ھے اور قرآن ھر روحانی مرض کے لیے دوا ھے اس لیے قرآن اور شھد دونوں شفاؤں کو تھامے رھو"۔ (ابن ماجہ و الحکم) 55. آپ کو حلوہ اور شھد سے بھت محبت تھی" حضرت عایؑشہ۔ 56. "شفا تین چیزوں میں پوشیدہ ھے ایک حجام سے پچھنا لگوانے میں۔ دویؑم شھد کی ایک خوراک کھانے میں۔ سویؑم آگ سے داغنے میں۔ لیکن میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ھوں"۔ (مسلم) 57. “لہسن میں 70 بیماریوں کی دوا ہے" از امام جعفرؒ۔

حکمرانی، سیاست، بادشاہ[ترمیم]

عبادت و دعا سے متعلق[ترمیم]

حکایات و تماثیل[ترمیم]

وراثت[ترمیم]

حیات بعد از ممات[ترمیم]

سائنس و طب[ترمیم]

تاریخ و جغرافیہ[ترمیم]

نام و نسب[ترمیم]

حقوق انسانی[ترمیم]

جانوروں، و پودوں، بے جان چیزوں سے متعلق[ترمیم]

دیگر مذاہب سے متعلق[ترمیم]

دوستی[ترمیم]

  • جو تمہاری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے، تم اُس کے ساتھ دوستی کرو کیونکہ ایسی دوستی پائیدار ہوتی ہے۔
    • نہج الفصاحت، ص 4، قول 11۔

حوالہ جات[ترمیم]

ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں محمد صلی اللہ علیہ وسلم.
  1. ( مسلم : ۲۵۷۷)