میر تقی میر
میر تقی میر (پیدائش: 28 مئی 1723ء — وفات: 20 ستمبر 1810ء) اردو زبان کے خدائے سخن تسلیم کیے گئے یعنی اردو زبان کے پہلے شہرت یافتہ شاعر۔ میر آگرہ میں پیدا ہوئے اور لکھنؤ میں آخری عمر بسر کی۔
اشعار
[ترمیم]- كيا بود و باش پوچهے ہو پورب كے ساكنو
ہم كو غريب جان كے ہنس ہنس پكار كے
دلّي جو ايك شہر تها عالم ميں انتخاب
رہتے تهے منتخب ہي جہاں روزگار كے
جس كو فلك نے لوٹ كے ويران كر ديا
ہم رہنے والے ہيں اسي اجڑے ديار كے
- نازکی اس کے لب کی کیا کہئے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
راہ دور عشق میں روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا - کوئی تم سا بھی کاش تم کو ملے
مدعا ہم کو انتقام سے ہے
- اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
- ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا
ہر گام پہ جس میں سر نہ ہوگا کیا ان نے نشے میں مجھ کو مارا
اتنا بھی تو بے خبر نہ ہوگا دھوکا ہے تمام بحر دنیا
دیکھے گا کہ ہونٹ تر نہ ہوگا آئی جو شکست آئنے پر
روئے دل یار ادھر نہ ہوگا دشنوں سے کسی کا اتنا ظالم
ٹکڑے ٹکڑے جگر نہ ہوگا اب دل کے تئیں دیا تو سمجھا
محنت زدوں کے جگر نہ ہوگا دنیا کی نہ کر تو خواست گاری
اس سے کبھو بہرہ ور نہ ہوگا آ خانہ خرابی اپنی مت کر
قحبہ ہے یہ اس سے گھر نہ ہوگا ہو اس سے جہاں سیاہ تد بھی
نالے میں مرے اثر نہ ہوگا پھر نوحہ گری کہاں جہاں میں
ماتم زدہ میرؔ اگر نہ ہوگا
- کتاب : MIRIYAAT - Diwan No- 1, Ghazal No- 0049
