نطشے

وکی اقتباسات سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

نطشے مشہور حرمن فلسفی تھا۔ اس کے اثرات دور جدید میں قبول کیے گئے۔ اس کی کتابوں میں زرتشت نے کہا کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی، جو اس کے فلسفیانہ نظریات کا اچھوتے انداز میں خلاصہ ہے۔ نطشے نے فوق الالبشر، خدا کی موت، اور مسیحیت پر شدید تنقید جیسے موضوعات کو زرتشت نے کہا، مین پیش کیا۔

زرتشت نے کہا[ترمیم]

  • آدمیوں کے ساتھ مل کر رہنا دشوار ہے، کیوں کہ چپ رہنا دشوار ہے۔[1]
  • میں ایک گیت گا سکتا ہوں، اور گا کر رہوں گا۔ اگرچہ میں اس مکان کے خلاوں میں تنہا ہوں اور اس بات پر مجبور ہوں کہ اپنے گیت کا جادو اپنے ہی کانوں میں پھونکوں۔[2]
  • خطرات سے لبریز زندگی بسر کرو۔ آتش فشاں پہاڑ کے دامن میں شہر بساؤ۔ جہاز لے کر ان سمندروں کی سیاحت کے لیے جاؤ جہاں اب تک کوئی نہیں گیا۔ ہر وقت برسر پیکار رہو۔

موت[ترمیم]

  • وعدہ کرو کہ میرے مرنے ک بعد صرف میرے دوستوں کو میرے تابوت کے قریب آنے کی اجازت دو گی اور عوام کو یمری لاش سے دور رکھو گی کیونکہ وہ خواہ مخواہ ہر بات کی کرید کرتے ہیں اور دیکھنا کوئی پادری، یا کوئی اور شخص میری قبر پر کھڑا ہو کر جھک نہ مارے کہ میں اس وقت مدافعت نہ کر سکوں گا۔ میں کافر اور مشرک ہوں۔ اور اسی حیثیت سے مجھے قبر میں اتار دینا۔ (اپنی بہن کے نام خط میں)

نطشے سے متعلق[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. زرتشت نے کہا، صفحہ 212
  2. زرتشت نے کہا، صفحہ 279


ویکیپیڈیا میں اس مضمون کے لیے رجوع کریں نطشے.